اقوامِ متحدہ کی خصوصی سفیر ینگہی لی کا کہنا ہے کہ میانمار میں فوج اور پولیس مسلم اقلیت کے خلاف ’’انسانیت سوز جرائم‘‘ کی مرتکب ہورہی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) سے خصوصی بات کرتے ہوئے میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی سفیر نے کہا کہ میانمار میں فوج اور پولیس مسلمانوں کے خلاف ’’انسانیت سوز جرائم‘‘ کی مرتکب ہورہی ہیں جب کہ انہیں ان الزامات کی تفتیش کے لیے میانمار کے شورش زدہ علاقے تک آزادانہ رسائی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش میں موجود پناہ گزینوں سے بات کرکے انہیں معلوم ہوا کہ صورتحال ان کی توقعات سے کہیں بدتر ہے، وہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کو تحقیقات کے لیے باضابطہ درخواست بھی دے رہی ہیں۔
دوسری جانب میانمار کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ میانمار کا داخلی معاملہ ہے اور اس حوالے سے الزامات بڑھا چڑھا کر پیش کیے جارہے ہیں جب کہ بعض اوقات اقوامِ متحدہ بھی غلط ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ اس سے قبل بھی روہنگی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے پر میانمار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناچکی ہے۔
ایکسپریس نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید