اقوامِ متحدہ کی خصوصی سفیر ینگہی لی کا کہنا ہے کہ میانمار میں فوج اور پولیس مسلم اقلیت کے خلاف ’’انسانیت سوز جرائم‘‘ کی مرتکب ہورہی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) سے خصوصی بات کرتے ہوئے میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی سفیر نے کہا کہ میانمار میں فوج اور پولیس مسلمانوں کے خلاف ’’انسانیت سوز جرائم‘‘ کی مرتکب ہورہی ہیں جب کہ انہیں ان الزامات کی تفتیش کے لیے میانمار کے شورش زدہ علاقے تک آزادانہ رسائی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش میں موجود پناہ گزینوں سے بات کرکے انہیں معلوم ہوا کہ صورتحال ان کی توقعات سے کہیں بدتر ہے، وہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کو تحقیقات کے لیے باضابطہ درخواست بھی دے رہی ہیں۔
دوسری جانب میانمار کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ میانمار کا داخلی معاملہ ہے اور اس حوالے سے الزامات بڑھا چڑھا کر پیش کیے جارہے ہیں جب کہ بعض اوقات اقوامِ متحدہ بھی غلط ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ اس سے قبل بھی روہنگی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے پر میانمار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناچکی ہے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار