42nd Parliament, House of Commons Chamber in session
مسی ساگا ، اونٹاریو سے لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ اقرا خالد نے ایوان میں اپنی اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد ( ایم 103 ) کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں نفریت آ میز ای میلز موصول ہو رہی ہیں اور کھلم کھلا دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ جمعرات کے روز انہوں نے ایوان کو بتایا کہ انہیں 50,000 سے زائد اس قسم کی ای میلز موصول ہو چکی ہیں۔ دھمکی آمیز ٹیلیفون کالز بھی مل رہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے سٹاف کو ایسی کالز سننے سے منع کر دیا ہے اور یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں دفتر بند رکھا جائے۔ کیونکہ وہ ان کی حفاظت کے سلسلے میں فکر مند ہیں۔ انہوں نے نمونے کے طور پر کچھ میلز پڑھ کر سنائیں۔ جیسے
۱۔ اس کو مار دو ، اس سے جان چھڑاؤ۔ یہ یہاں ہمیں مارنے کے لئے آئی ہے۔ یہ مریض ہے اسے ملک بدر کر دینا چاہئے۔
۲۔ ہم تمہاری مسجدیں جلا دیں گے۔ ۳۔ اسے کینیڈا میں داخل ہی کیوں ہونے دیا گیا۔ اسے واپس بھیجو۔
۴۔ تم ہمارے ملک سے دفع کیوں نہیں ہو جاتیں۔ تم نری نجاست ہو۔ کینیڈا کے حقیقی باشندوں کی اکثریت تمہیں یہاں برداشت نہیں کر سکتی۔
اقرار خالد نے اقرار کیا کہ ان کی حمایت میں بھی بہت سی ای میلز موصول ہوئی ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رکن پارلیمنٹ کی سیکیوریٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اور نفرت اور دھمکی آمیز ای میلز کے سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…