اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عراق میں سال 2016 میں دہشت گردی اور تشدد کے دیگر واقعات میں کم از کم 6,878 شہری ہلاک اور 12,388 افراد زخمی ہو گئے۔لیکن ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیوں کہ اس رپورٹ میں عراق کے مغربی صوبے انبار میں مئی، جولائی، اگست اور دسمبر میں ہلاک و زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد شامل نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے عراق (یواین اے ایم آئی) کے مطابق جانی نقصان سے متعلق اس تعداد کو ’’کم از کم‘‘ تصور کرنا چاہیئے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دسمبر 2016 عراق میں جانی نقصان کی تعداد اس سے قبل کے مہینوں کے مقابلے میں کم رہی، اگرچہ آخری مہینے میں بم حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے عراق جان کیوبس نے کہا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں، داعش موصل میں ہونے والے جانی نقصان سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کی قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں۔‘‘
(یواین اے ایم آئی) نے 2015 میں اپنی رپورٹ میں عراق میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 7,512بتائی تھی۔
بصیرت آن لائن
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام