امریکہ میں ایک اسٹور میں حجاب پہنی ایک خاتون کو ایک دیگر گاہک نے دہشت گرد کہہ کر خطاب کیا اور ملک سے باہر چلے جانے کو کہا۔
نفرت پر مبنی جرائم کی سیریز میں یہ نیا واقعہ ہے جس میں ڈونالڈ ٹرمپ کے جیتنے کے بعد برقع پوش خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سی بی ایس سے وابستہ كے آر کیوای ٹی وی نے خبر دی ہے کہ واقعہ نیو میکسیکو میں البكرک کے سمتھس اسٹورکا ہے۔ برنی لوپیز نامی ایک چشم دید کے حوالے سے کہا گیا ہے، ‘میں سوڈا لینے کے لئے نیچے گلیارے میں گیا تھا اور اچانک سے میں نے کسی کو اس پر (برقع پوش عورت پر) چلاتے سنا۔ انہوں نے کہا، ‘اسے کہا جا رہا تھا ‘ہمارے ملک سے چلے جاؤ ، تم یہاں کی نہیں ہو۔ آپ دہشت گرد ہو۔ ‘لوپیز نے کہا کہ اس وقت سب لوگ ٹھہر سے گئے اور حجاب پہنی خاتون کے دفاع کے لئے دوڑ پڑے۔
لوپیز نے باحجاب عورت پر چلانے والی عورت کی تصویر کھینچ لی ہے۔ حالانکہ وہ تھوڑی ہلی ہوئی ہے۔ خاتون ایک ٹوپی پہنی ہوئی تھی اور اس نے چشمہ لگایا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملازم چلانے والی خاتون کو اسٹور سے باہر لے گئے لیکن چلانے والی عورت حجاب پہنی خاتون کا پارکنگ پر انتظار کرنے لگی۔ انہوں نے کہا کہ سمتھس کے تمام ملازم عورت کے چاروں طرف جمع ہوئے اور اسے اس کی گاڑی تک چھوڑا اور اس کا سامان اس کی گاڑی میں رکھا۔ امریکی ٹی وی اسٹیشن نے سمتھس کے مینیجر سے بدھ کو ہوئے اس واقعہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے واقعہ کی تصدیق کی۔
بصیرت آن لائن
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار