گالیکش/سبزوار/زاہدان (سنی آن لائن) ایران کے صوبہ گلستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین صوبہ خراسان کے شہر سبزوار کے قریب ایک ٹریفک حادثے میں اتوار سولہ اکتوبر کو جاں بحق ہوئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مقامی ذرائع نے ’سنی آن لائن‘ کو بتایا ’مولوی ابراہیم براہوی‘ زاہدان سے گالیکش جاتے ہوئے راستے میں حادثے کا شکار ہوئے۔ ان کی ذاتی گاڑی سبزوار سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر الٹ گئی جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
چھتیس سالہ مولوی ابراہیم کا شمار دارالعلوم فاروقیہ گالیکش کے ممتاز و سینئر اساتذہ میں ہوتا تھا جہاں آپ دورہ حدیث کی کتابوں سمیت بعض اہم کتابیں پڑھارہے تھے۔ موصوف بعض نمایاں کتابوں کے مصنف و مترجم بھی تھے اور دعوت و تبلیغ کے میدان میں کافی سرگرم تھے۔
دارالعلوم فاروقیہ کے استاذ کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے میں ہزاروں افراد کی موجودی میں منگل کو ادا کی گئی۔ صوبہ گلستان سے باہر بعض شخصیات اور مدارس کے نمایندوں نے بھی جنازے میں شرکت کی۔
مولوی ابراہیم نے دینی تعلیم کا سفر دارالعلوم فاروقیہ سے آغاز کیا جہاں آپ نے چھ سال تعلیم حاصل کی۔ پھر اپنے اساتذہ کے مشورہ سے ’تعلیم القرآن‘ شورشادی (زاہدان) چلے گئے۔ دو سال تعلیم کے بعد جامعہ بدرالعلوم حمادیہ رحیم یارخان چلے گئے جہاں آپ نے موقوف علیہ کا سال پڑھا۔
آپ نے دورہ حدیث کے لیے دارالعلوم زاہدان کا انتخاب کیا اور ملک کے نامور علما اور اساتذہ سے استفادہ کیا۔
مولوی ابراہیم نے سوگواروں میں دو بیوی، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…