شدت پسندی میں اضافے کے ساتھ مغرب میں مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ان ممالک میں بالخصوص مسلمان خواتین اور ان کے اسلامی لباس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اب کینیڈا میں بھی ایک مسلمان طالبہ اس امتیاز کا نشانہ بن گئی ہے جہاں حجاب نہ اتارنے پر اسے امتحان دینے سے روک دیا گیا۔
کینیڈین شہر مونٹریال کے ایک جونیئر کالج میں بائیولوجی کے مرد ٹیچر نے طالبہ سے کہا کہ وہ حجاب اتار کر اپنے کان دکھائے کہ کہیں اس نے ہیڈفون تو نہیں لگا رکھے۔ طالبہ نے اس کے سامنے حجاب اتارنے سے انکار کر دیا جس پر ٹیچر نے اسے امتحان سے اٹھا دیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈی میسونیوے کالج کی اس مسلمان طالبہ نے ٹیچر سے کہا کہ حجاب کے اوپر سے ہی کانوں پر ہاتھ لگا کر ہیڈ فون نہ ہونے کی تسلی کرلے لیکن وہ حجاب اتارنے کے مطالبے پر بضد رہا۔ کالج کی ٹیچر لین لیگیئر کا کہنا تھا کہ طالبہ اپنے مرد ٹیچر کو اپنے کان نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ اس نے حجاب کے اوپر سے ہی ہیڈفون چیک کرنے کی پیشکش کی۔
ٹیچر نے سال کے آغاز میں ہی تمام طلبہ کو بتا رکھا تھا کہ وہ امتحان میں ہر ایک کے کان چیک کرے گا لیکن امتحان کے دن اس طالبہ نے کان دکھانے سے انکار کر دیا جس پر ٹیچر برہم ہو گیا اور اس نے اسے امتحان دینے سے روک دیا۔
طالبہ نے ٹیچر کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کروائی اور سکول انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ نہ ہونے پائے۔ ٹیچر اور طالبہ امتحان کے لیے نئی تاریخ کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں ۔
اردو ٹائمز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار