Categories: بيانات

عوامی اعتماد پولیس کی سب سے بڑی دولت ہے

ایرانی بلوچستان کے صدرمقام میں ہزاروں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے ایران میں ’ہفتہ پولیس‘ کے موقع پر ’قیام نظم و امن‘ کو اس ادارے کی اہم ذمہ داری اور عوام کے اعتماد کو ان کی سب سے بڑی دولت قرار دی۔
تیس ستمبر دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ میں صوبہ سیستان بلوچستان کے پولیس چیف اور ان کے ساتھیوں کی موجودی میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: پولیس کی بنیادی ذمہ داری نظم و قانون کا نفاذ اور امن کی حفاظت ہے۔ قیام امن بعض اداروں کی حساس ترین ذمہ داری ہے۔ پولیس براہ راست میدان میں اتر کر امن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
مرکزی اجتماع برائے نماز جمعہ میں خطاب جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا: پولیس صرف اس وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب عوامی اعتماد اس کے ساتھ ہو۔ عوام کا اعتماد پولیس کی سب سے بڑی ممکنہ دولت ہے۔ عوام کی حمایت ہی سے پولیس اپنی ذمہ داریاں آسانی سے پوری کرسکتی ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے ’لباس تقویٰ‘ کو بہترین یاد کرتے ہوئے کہا: بلاشبہ پولیس یونیفارم عوام کی خدمت کا قومی لباس ہے، لیکن بہترین لباس قرآن پاک کی رو سے تقویٰ کا لباس ہے۔ یہ لباس ہم سب کا روحانی کپڑا ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی محکمے اور ادارے میں اس لباس کو زیب تن کرنے کا پابند ہو تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم اس وقت تک کامیاب نہیںہوسکتے جب تک ہم لباس تقویٰ زیب تن نہیں کریں گے اوراللہ تعالی اور اس کے بندوںکے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے گریز نہیں کریں گے۔ ہم سب کو گناہوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ جو گناہوں سے دوری اختیار کرے گا، اللہ تعالی کی حمایت و پشت پناہی اس کو نصیب ہوگی۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے اس حصے میں پولیس سربراہ ’جنرل رحیمی‘ کو ایک معتدل اور منصف مزاج شخص یاد کرتے ہوئے کہا: اگر کوئی پولیس اہلکارقانون کی خلاف ورزی کرے، جنرل رحیمی ان کی حمایت کے بجائے قانون کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے عدالت ہی اس بارے میں درست فیصلہ کرسکتی ہے۔

پولیس کو ایک عوامی قوت ہونی چاہیے
ممتاز سنی عالم دین نے پولیس کی کامیابی کے ایک اور سبب واضح کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پولیس (ناجا) کل کی ’جنڈارمری‘ نہیں ہے جو ایک مخصوص خاندان کی خدمت کے لیے مخصوص تھی۔ آج کی پولیس عوام کی خدمت کے لیے کمربستہ ہے۔ اگر پولیس کو صوبہ اور ملک میں کوئی کامیابی حاصل ہوئی ہے، یہ سب عوام ہی کی حمایت کی بدولت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: امن قائم کرنے کے حوالے سے عوام، قبائل اور مختلف برادریوں کا کردار ناقابل انکار ہے۔ سب اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ شرپسند اور جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں روکنا چاہیے۔

اپنے خطاب کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے سابق اسرائیلی رہ نما ’شیمون پریز‘ کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: پریز کی موت سے واضح ہوگیا اس دنیا میں کوئی باقی نہیں رہے گا۔ سب کو ایک دن جانا ہوگا۔ ’قانا کے سفاک‘ کی موت صہیونی قابض ریاست کے حکام سمیت تمام ظالموں اور جابروں کے لیے وارننگ ہے کہ اپنی تخریبی پالیسیاں تبدیل کریں۔

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

1 hour ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago