يوروپي ملک بلغاریہ کی پارلیمنٹ نے پورا چہرہ ڈھکنے والے برقعہ کے استعمال پر پابندی لگانے کا قانون منظور کیا ہے۔
کل پارلیمنٹ سے اس قانون کو منظوری ملنے کے بعد اب عوامی مقامات پر چہرے کو ڈھکنے والے برقع پر پابندی عائد رہے گی اور سب سے پہلے اس کا خلاف ورزی کرنے پر 200 لیوا (103 یورو یا 114 امریکی ڈالر)، بار بار خلاف ورزی پر 1500 لیوا کے جرمانے کی تجویز ہے۔
تقریبا 13 فیصد مسلم آبادی ہے والے اس ملک کی مسلم خواتین عام طور پر اپنے بالوں کو ڈھکنے کے لئے ایک سادہ سکارف کا استعمال کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں قدامت پسند مسلم معاشرے کی عورتوں میں برقع پہننے کا چلن بڑھا ہے۔
برقع پر پابندی کے اس قانون کا ایم یل ڈي تركش مائنارٹي پارٹی نے یہ کہتے ہوئے مخالفت کی ہے کہ اس سے دوسری سیاسی جماعتوں کے ‘مذہبی عدم برداشت’ کا پتہ چلتا ہے۔ اس سے پہلے فرانس اور بیلجیم جیسے ممالک نے بھی برقع پر پابندی لگائی ہے اور یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی ایسے قانون بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بصیرت آن لائن
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار