EDITORS NOTE: Graphic content / A wounded man and a child walk away as others help a victim at the scene of a reported air strike on the rebel-held northwestern city of Idlib on September 10, 2016. More than 290,000 people have been killed in Syria since its conflict erupted in March 2011, and millions displaced by the fighting. / AFP PHOTO / Omar haj kadour
شام میں جنگ بندی کے لیے امریکہ اور روس کی جانب سے منصوبے کے اعلان کے بعد باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں کم سے کم 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ادلب میں ایک بازار پر حملے میں 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حلب میں ہونے والے فضائی حملوں میں 45 لوگ مارے گئے ہیں۔
شام میں دس روزہ جنگ بندی پیر سے شروع ہونی ہے لیکن اس سے پہلے ہی جہادی عسکریت پسندوں کے خلاف یہ حملے کیے گئے ہیں۔
ترکی اور یورپی یونین نے جنگ بندی کے اس منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس حوالے سے مزید اقدامات کی بھی ضرورت پر زور دیا تھا۔
شام میں حزبِ اختلاف کی ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے منصوبے سے کچھ امید پیدا ہوئی ہے تاہم اس کی نوعیت کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے کس طرز پر نافذ کیا جائے گا۔
ریاستی خبر رساں ادارے صنعا نیوز کے مطابق دمشق میں حکومت نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن ایران کی جانب سے اس بابت کوئی بیان نہیں آيا ہے۔
خیال رہے کہ روس کی طرح ایران بھی بشار الاسد کی حکومت کا حامی رہا ہے۔
سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مذاکرات کے بعد امریکہ اور روس نے شام میں 12 ستمبر کو غروب آفتاب سے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں طے کیا گیا کہ باغیوں کے کنٹرول والے مخصوص علاقوں کے خلاف شامی حکومت کارروائی نہیں کرے گی۔
روس اور امریکہ کا مشترکہ سینٹر قائم کیا جائے گا جو اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور النصرہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یہ منصوبہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے دوران ایک روزہ بات چیت میں طے پایا۔
شام میں باغیوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ شامی حکومت بھی سنجیدگی دکھائے۔
شامی صدر کے حلیفوں روس اور ایران کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
شام میں شورش کا آغاز پانچ سال پہلے صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت سے ہوا اور اب تک اس میں کم سے کم تین لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…