پولیس اہل کار کے “برقینی” سے روکنے پر برطانیوں کا ردعمل

برطانیہ میں خواتین کے تیراکی کے لباس “برقعنی” کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
ہوا کچھ اس طرح کہ تین برطانوی اداکاروں نے یہ جانچنے کا فیصلہ کیا کہ اگربرطانیہ میں ساحل سمندر پر مسلمان خاتون کو حجاب اور برقعنی پہننے سے روکا گیا تو آس پاس موجود لوگوں کا کیا ردعمل ہوگا۔ اس تجربے کا مقصد برطانوی اور فرانسیسی شہریوں کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرنا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتانا تھا کہ برطانوی ثقافت ملک میں موجود مختلف کمیونٹیز کو کس طرح تحفظ فراہم کرتی ہے جب کہ اس طرح کا تحفظ فرانس کے شہر “کین” کے ساحلوں پر فراہم نہیں ہوا جب پولیس کے اہل کاروں نے ایک خاتون کو اسلحے کے زور پر اس کا حجاب اتارنے پر مجبور کر دیا تھا۔
برطانوی ساحل پر جب “جعلی” پولیس اہل کار نے برقعنی پہنے ہوئے ایک باحجاب خاتون کو سر کھولنے پر مجبور کیا تو ساحل پر تفریح کے لیے آنے والے افراد یکے بعد دیگرے اس باحجاب خاتون کے دفاع کے لیے جمع ہوتے چلے گئے اور پولیس والے کو باور کرایا کہ خاتون اپنی خواہش کے مطابق کچھ بھی پہننے کا حق رکھتی ہے۔
اس دوران جب پولیس اہل کار کی اداکاری کرنے والے شخص نے خاتون کا حجاب کھینچنے کی کوشش کی تو ایک دوسری خاتون نے پولیس اہل کار کے سامنے آ کر چلاتے ہوئے کہا کہ “نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ ایک مذہبی فریضہ ہے۔ یہ انسان ہے اور اور اس کے مذہب کی وجہ سے اس کو امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنا سکتے”۔
ایک منٹ سے بھی کم وقت میں 20 سے زیادہ افراد پولیس اہل کار کے گرد جمع ہو کر اس پر چلانے لگے۔ معاملے کی سنگینی بڑھنے لگی تو تینوں اداکاروں نے فوری طور پر حاضرین کو آگاہ کیا کہ یہ معاملہ صرف ایک “سماجی تجربہ” تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ فرانس کے مماثل واقعہ پیش آنے کی صورت میں برطانیوں کا ردعمل کیا ہوگا۔
یوٹیوب پر اس وڈیو کے پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اس کو تقریبا 50 ہزار مرتبہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کی متعدد نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر بھی یہ وڈیو زیرگردش رہی۔کچھ عرصہ قبل فرانس کے شہر کین کے ساحل پر مسلح پولیس اہل کاروں نے ایک بورکنی میں ملبوس ایک مسلمان خاتون کو اس حجت کے ساتھ کپڑے اتارنے پر مجبور کر ڈالا تھا کہ ساحل پر موجودگی اور تیراکی اس روایتی لباس کا تقاضا کرتی ہے جس کو یورپی خواتین ساحل پر پہنتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تصاویر جاری ہونے کے بعد ایک طوفان کھڑا ہوگیا تھا جب کہ برطانوی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے فرانسیسی پولیس کے اس سلوک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

بصیرت آن لائن

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago