جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن نے سندھ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر علماء کی مشاورت سے مدارس کے ضمن میں مشاورت کئے بغیر قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسے قانون کو ہم تار تار کر دیں گے اور اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کرنی ہے تو علماء کو راضی رکھنا ہوگا ورنہ حکومت نہیں کر پائو گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں خبردار کرتے ہیں کہ ہمیں مدارس کے ضمن میں ایسا یکطرفہ قانون قابل قبول نہیں ہے۔ آج مدرسے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ہم پاکستان کے آئین اور قانون کے دائرے میں کام کر رہے ہیں یہ جو روز روز نئے نئے قوانین آ رہے ہیں یہ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ بدنیتی پر مبنی قانون تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اگر آپ نے آمریت مسلط کرنے کی کوشش کی تو آپ کے ایسے یکطرفہ قانون کو تار تار کر کے پھینک دیں گے آئو مدارس سے بات کرو ورنہ ایسا قانون ہم ردّ کر دیں گے۔ وہ اتوار کو جامعہ انوارالعلوم مہران ٹائون میں ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ کنونشن کی صدارت صوبائی صدر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے کی۔ کنونشن سے صوبائی جنرل سیکر ٹر ی علامہ راشد سومرو، جے یو آئی سندھ کے نائب صدر قاری محمد عثمان، جامعہ انوارالعلوم کے مہتمم مفتی عبدالحق، قاضی منیب الرحمٰن، مولانا امجد خان، اسلم غوری، مولانا عمر صادق، مولانا گل محمدتالانی، قاضی فخرالحسن، سید عمران شاہ، مولانا عبدالکریم عابد، مولانا نصیر الدین سواتی، مفتی غیاث، مفتی عبدالرب عثمانی نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض قاری محمد عثمان نے انجام دیئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آزادی کا مقصد ابھی پورا نہیں ہوا، ہمارے ادارے عوام کی خواہش پورا کرنے کے بجائے عالمی قوتوں کی پیروی میں اپنی خیر سمجھتے ہیں ہم ابھی بھی دقت محسوس کر رہے ہیں ابھی حال ہی میں ایک امریکی ادارے نے سروے کیا ہے بہت سے ممالک کا۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے 82 فیصد لوگ ملک میں قرآن و سنت کا نظام چاہتے ہیں۔ 16 فیصد چاہتے ہیں مگر نرمی والا اور 2 فیصد چاہتے ہیں کہ قرآن و سنت کا نظام نہ ہو۔ اس سروے کو پوری دُنیا سے چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جے یو آئی پاکستان کی واحد سیاسی قوت ہے جو صرف ایک مکتبہ فکر کی نہیں بلکہ تمام اسلامی قوتوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ میں نے پارلیمنٹ میں بھی کہا کہ میری طرف کسی خاص مسلک سے منسوب کرکے اُنگلی نہ اٹھائیں، ہم فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر پوری اُمت اور انسانیت کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال اپریل میں جمعیت علمائے اسلام کی صد سالہ تقریب پشاور میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ جمعیت علماء کے قیام کے سو سال مکمل ہو رہے ہیں اور ایک صدی مکمل ہونے پر ہم اور آپ اس بات پر اظہار تشکر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء ایک ایک فرد تک اللہ کا پیغام پہنچائیں اور جب قوموں تک اللہ کا پیغام پہنچانا مقصود ہو تو پھر اس کے لیے جماعتیں بنتی ہیں ہمارے اکابرین نے اس کے لیے مدارس قائم کئے، جماعتیں بھی بنائیں اور جب قوت کو مجتمع کرنے کا ماحول بنانا ہو تو وہ بھی علماء نے آپ کو بنایا۔ قوم کی رہنمائی کی ضرورت ہے انفرادی معاملات میں ایک عالم کی رائے حجت ہو جاتی ہے معاشرے کے لیے ایک عالم کی رائے کی نہیں اجتماعی رائے کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے قوم کی رہنمائی کے لئے جمعیت علماء بنائی گئی ان مقاصد کے لئے لمبی جنگ لڑنی پڑی حوصلہ نہیں ہارا اور آزادی حاصل کی۔ آزادی کے بعد ہمیں پاکستان ملا۔ 70 سال ہوگئے مگر آج بھی ہم محسوس کر رہے ہیں کہ آزادی کا مقصد ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگردیوبند کی بات کرتے ہیں تو دیوبند کسی کی دُکان نہیں یہ پوری دُنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ اسلام آزادی اور پوری دُنیا کے حقوق کی بات کرتا ہے آپ نے اس شناخت کو عالمی نظریہ بنایا۔ اپنی دُکان نہیں بنایا۔ آپ ایسا کریں گے تو پھر تنقید کا نشانہ بھی بنیں گے۔ باقی مولوی کیوں تنقید کا نشانہ نہیں بنتے پھلدار درخت پر ہی پتھر مارے جاتے ہیں باطل قوت کا آپ کے خلاف میدان میں آنا یہی آپ کے اہل حق ہونے کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لمبی جدوجہد کے بعد سندھ میں جے یو آئی کو بلدیاتی انتخابات میں ایک بڑی کامیابی ملی۔ قرآن کریم کا تقاضا ہے کہ کامیابی کو آگے بڑھایا جائے آگے بڑھنے کا تصور ہی ترقی اور پیش رفت کا تصور ہے۔ اپنے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے اشتعال میں آئے بغیر آگے بڑھیں۔ حکمت اور تدبر کے ساتھ جمعیت علماء کی بنیاد رکھنے والے مدارس سے ہی تھے وہ نظام تعلیم جو ہمیں غلامی کا درس دیتا رہا علماء نے ایسا نظام تعلیم دیا جس سے آزاد منش لوگ پیدا ہوتے رہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے برائیوں کا راستہ روکا۔ پنجاب میں خواتین بل لایا گیا ہماری نمائندگی وہاں نہیں تھی۔ ہم نے خود مورچہ لگایا اور اس قانون کو واپس دھکیل دیا۔ قومی اسمبلی میں حلال فوڈ کا معاملہ آیا تو ہماری مداخلت پر اسے واپس لینا پڑا۔ پشاور میں بل لایا گیا تو اسے بھی دھکیل دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ جے یو آئی حکومت کی اتحادی ہے ہاں ہم اتحادی ہیں اگر ہم نے اپنے نظریات کے خلاف قدم اٹھایا تو ہم مجرم ہیں۔ تمام علماء اسلام کے خلاف بننے والے قوانین کے خلاف اکٹھے ہیں۔ علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ آج کا ورکر کنونشن صد سالہ اجتماع جو اپریل میں پشاور میں منعقد ہو گا اس کی تیاریوں کا سلسلہ ہے۔ قائد جمعیت نے ہمیں تین دن کے لیے پشاور کے لیے بلایا ہے اگر قائد جمعیت ہمیں اسلام آباد بلائیں تو ہم اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیں گے ہم ایسی دشمن قوتوں کو باور کرا دیں گے کہ ہم پاکستان کو اسلامی مملکت بنا کر دم لیں گے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صرف کھاتے تبدیل کئے ہیں چہرے وہیں ہیں ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم مدارس کا دفاع کرتے رہیں گے جب تک جان میں جان ہے۔ مدارس کے خلاف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے قاتلوں کی سرپرستی سندھ حکومت کر رہی ہے وہ باز نہیں آ رہی ہم نے یکم ستمبر تک کا وقت دیا ہے کہ وہ قاتلوں کی سرپرستی بند کرے ورنہ یکم ستمبر کو وزیراعلیٰ ہائوس پر دھرنا دیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا امجد خان نے کہا کہ شہید اسلام خالد محمود سومرو کے خون سے جمعیت سندھ میں پھیل چکی ہے آنے والا وقت جمعیت علمائے اسلام کا ہوگا۔
جنگ نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…