مسلمان خاتون کے حجاب کا مسئلہ امریکی میڈیا کی توجہ کا مرکز

امریکا میں ایک مسلمان خاتون کو حجاب پہننے کی وجہ سے ڈینٹل کلینک کی نوکری سے فارغ کردیا گیا جس کے بعد مقامی میڈیا میں بھی ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔
امریکی ریاست ورجینیا میں مسلمان خاتون نجف خان نے ایک ڈینٹل کلینک میں اپنی نئی ملازمت شروع کی تو وہاں کے باس نے نجف سے کام کے دوران حجاب اتار دینے کا مطالبہ کیا۔ باس کے مطابق نجف کا حجاب مریضوں کے کلینک سے دور رہنے کا سبب بن رہا ہے اور یہ اس کے پیشے کے لحاظ سے کام کے دوران مناسب نہیں۔
ملازمت کے ابتدائی تین روز تک نجف کا باس یہ دھمکی دیتا رہا کہ حجاب نہ اتارنے کی صورت میں اسے نوکری سے برخاست کر دیا جائےگا۔ تاہم نجف نے ان دھمکیوں کا اثر نہ لیتے ہوئے اپنے حجاب کو برقرار رکھا یہاں تک کہ ای میل کے ذریعے اس کو برطرفی کا پروانہ مل گیا۔
نجف خان کا کہنا ہے کہ ” میں ڈینٹل کلینک میں کام شروع کرنے کے حوالے سے بہت پُرعزم تھی کیوں کہ دانتوں کی ایک اچھی ڈاکٹر بننے کے لیے مجھے تربیت کی ضرورت تھی۔ میں اس وقت بھونچکا سی رہ گئی جب مجھے باس نے بتایا کہ میں پانے کام میں بہت اچھی ہوں مگر ملازمت جاری رکھنے کے لیے مجھے اپنا حجاب اتارنا ہوگا”۔
کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمان خاتون کو ڈینٹل کلینک میں دوبارہ کام پر لایا جائے اور اس ناخوش گوار تجربے کی وجہ سے اسے جس معاشی اور نفسیاتی تکلیف سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کا زر تلافی بھی ادا کیا جائے۔ کونسل نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی امریکی ملازم کو اس کے عقائد یا دینی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے اہانت کا نشانہ نہ بنایا جائے اس لیے کہ یہ ذاتی حقوق میں سے ہیں اور امریکی قانون اس کی اجازت دیتا ہے”۔
مذکورہ واقعہ بیان کرنے والے برطانوی اخبار “انڈیپینڈنٹ” کو “آکس” ڈینٹیل کلینک کا موقف حاصل نہیں ہوسکا جس کے ڈائریکٹر نے نجف خان کے حجاب کے حوالے سے نسل پرستی کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ملازمت سے فارغ کردیا۔
نجف خان کا معاملہ ایک دوسری مسلمان نوجوان خاتون “سمانتھا” کے کیس کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے۔ سمانتھا کو بھی اسی نوعیت کے موقف کا نشانہ بننا پڑا تھا۔ امریکی سپریم کورٹ نے جون 2015 میں اپنے ایک عظیم فیصلے میں کہا تھا کہ سمانتھا جس کمپنی میں کام کررہی ہے اس نے مسلمان خاتون کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago