شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے اجتماع برائے نماز جمعہ میں ناکام ترکی فوجی بغاوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس ناکامی کو دنیا کی تمام اقوام کے لیے خوشخبری قرار دی۔
بائیس جولائی دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش میں اللہ تعالی نے نہ صرف ترک قوم بلکہ تمام آزاد اقوام پر فضل و کرم فرمایا اور اللہ کے احسان سے اور ترک حکومت اور قوم کی ہمت کی بدولت یہ بغاوت شکست سے دوچار ہوئی۔
انہوں نے مزیدکہا: بغاوت قانون اور جمہوریت کے خلاف اقدام ہے جو علمی، سیاسی اور عمرانی ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ترکی کی پس ماندگی کی ایک وجہ متعدد فوجی بغاوتیں ہیں جو اس ملک وقوع پذیر ہوچکی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ترکی قوم اور ملک جرمنی جیسے ملک کے ہم سطح ہوتے۔ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی سب کے لیے خاص کر مشرق وسطی کی اقوام کے لیے خوش آئند ہے۔اس کے بعد ان شاءاللہ دین دشمن عناصر اس ملک میں بے دینی کی حکومت قائم نہیں کرسکیں گے۔
خطیب اہل سنت نے کہا: ہمیں امید ہے ترکی کی قوم اور حکومت سمیت تمام مسلم ممالک جو ان دونوں میں بہت بڑی آزمائش میں ہیں، دوراندیشی و فراخدلی سے اپنے مسائل حل کریں۔
اقوام متحدہ کی نااہلی اس کے ریکارڈ میں باقی رہے گی
مولانا عبدالحمید نے جامع مسجد مکی زاہدان میں بیان جاری رکھتے ہوئے فرانس کے نیس شہر میں پیش آنے والے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: اس حادثے کا پیغام یہ ہے فرانس کے عوام سمیت دنیا کے تمام لوگ اس جیسے واقعات کی اصل وجوہات معلوم کرنے کے لیے سوچیں اور درست تدبیر کریں۔
انہوں نے کہا: جنگ و لڑائی ایسے واقعات کی بیخ کنی کے لیے مناسب حل نہیں ہیں، لڑائی سے مزید لڑائی پیدا ہوتی ہے اور دشمنی و نفرت میں اضافہ ہوتاہے۔
رابطہ عالم اسلامی کے رکن نے اقوام متحدہ و سلامتی کونسل کی نااہلی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہمیں اندازہ نہیں تھا اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دیگر طاقتیں مشرق وسطی کے مسائل حل کرانے میں اس قدر نااہل ہوں۔اقوام متحدہ سمیت تمام موثر ممالک کی ناکامی و نااہلی ان کے ریکارڈ میں باقی رہے گی کہ کس طرح شام، عراق، یمن اور دیگر ملکوں میں قتل و خون کا سلسلے رکنے میں وہ ناکام ہوئے۔
انہوں نے تاکید کی: قتل عام کے تمام واقعات کی اصل وجہ یہی ہے کہ تمام طاقتیں صرف اپنے مفادات کے لیے کوشاں ہیں اور جب تک ان کے مفادات یقینی نہیں ہوتے، بے گناہ لوگ اور بچے و خواتین نہایت بے دردی سے اپنی جانیں گنواتے رہیں گے۔ افسوس کی بات ہے کہ اس حوالے سے کوئی ترحم اور ہمدردی کا احساس دیکھنے میں نہیں آتا۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: تمام اقوام عالم کا مطالبہ یہی ہے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل ان مسائل کے حل کے لیے چارہ جوئی کریں۔ طاقت کی درست اور عادلانہ تقسیم بہترین حل ہے۔ دنیا میں آج کل کی جنگیں اور لڑائیاں طاقت کے لیے ہیں۔
قلب کی صفائی اور نماز اصلاح کی بنیادیں ہیں
خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبے کے پہلے حصے میں اصلاح نفس کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: اسلامی شریعت نے زور دیاہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو ظاہری و باطنی آلودگیوں سے مثلا کفر، شرک، منافقت، جھوٹ، خیانت اور برے اخلاق سے پاک رکھے۔ دنیاپرستی اور نفس پرستی برے اخلاق میں شامل ہیںجن سے دوری ہم پر لازم ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: جو دل عقیدہ، عمل اور اخلاق کی برائیوں سے پاک ہو، وہ گناہوں کا پیاسا نہیں ہوتا۔ روز قیامت صرف پاک و صاف دل والے نجات حاصل کریں گے۔ لہذا ہر قسم کی برائی مثلا تکبر، حسد، لالچ و غیرہ سے سخت پرہیز کریں۔
اصلاح نفس کے دوسرے ذریعے کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اگر اصلاح نفس کے لیے پہلا قدم نہ اٹھایا گیا، تو دوسرا قدم جو نماز قائم کرنا ہے، اچھی طرح انجام نہیں پائے گا۔ چونکہ دلوں میں گناہوں اور برائیوں کی جڑیں موجود ہیں، اس لیے بہت ساری نمازیں صرف شکل سے نماز ہیں اور اولیاءاللہ و مقربین کی نمازوں سے کوئی مماثلت نہیں رکھتی ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے آخر میں ’محبت دنیا‘ کو سب سے بڑا فساد یاد کرتے ہوئے کہا: دنیا سے تعلق اور محبت برائیوں کی جڑ ہے۔ جو شخص دنیا کی محبت میں گرفتار ہوجائے، وہ اپنے دل کی اصلاح و تزکیہ کے لیے کوشش نہیں کرے گا اور حقیقی نماز بھی اسے نصیب نہیں ہوگی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…