سنی علمائے کرام: ہماری نماز امن کیلیے خطرہ نہیں ہے

تہران/زاہدان (سنی آن لائن) ایران کے مختلف علاقوں خاص کر تہران میں اہل سنت کے نمازخانوں اور نمازیوں کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنے ایران کے سنی علمائے کرام نے سخت برہمی کا اظہار کیاہے۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ www.sunnionline.us کی رپورٹ کے مطابق، سنی نمازخانوں کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنے اور باجماعت نماز پڑھنے پر سختی دکھانے سے ایران کے طول و عرض میں شدید غم وغصہ پایا جاتاہے۔ گزشتہ جمعہ (گیارہ رمضان المبارک)میں مختلف شہروں میں سنی علمائے کرام نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے انتہاپسند عناصر کو لگام لگائیں۔

مولانا محمدحسین گرگیج ، جامعہ فاروقیہ گالیکش کے مہتمم نے اپنے بیان زور دیتے ہوئے کہا: ہماری نماز سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں انہیں سامنے لایاجائے کہ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ ہمارے خیال میں یہ لوگ ملک کے امن سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
ایران کے شمال مشرقی خطے کے ممتاز عالم دین نے کہا: نماز ہماری ریڈلائن ہے اور ہم ہرگز اس پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اگر عوام کے قانونی حقوق انہیں دیا جائے، سکیورٹی فورسز کو مداخلت کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ نماز و دیگر ارکان دین ہمارے جائز حقوق ہیں اور آئین کے تناظر میں ہم آزادی کے ساتھ انہیں بجا لاسکتے ہیں۔

دریں اثنا سراوان کے خطیب جمعہ مولانا عبدالصمد ساداتی نے نماز کی اہمیت واضح کرتے ہوئے قیام نماز کے اسباب فراہم کرنے کو اسلامی حکومت کی ذمہ داری قرار دی۔
صدر دارالعلوم زنگیان (سراوان) نے کہا: جو نماز پڑھتاہے، اس سے نہیں کہا جاتاہے تم کیوںنماز پڑھتے ہو؟ سوال اس سے ہونا چاہیے جو نماز نہیں پڑھتاہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے جب دو افراد ساتھ ہوں، نماز جماعت کے ساتھ ادا کریں۔ مختلف شہروں اور محلوں میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے مناسب جگہ ہونی چاہیے۔

ایرانشہر کے علمائے کرام نے بھی اس حوالے سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیاہے۔ مسجد النور کے خطیب اور جامعہ شمس العلوم کے مہتمم نے نماز کے لیے رکاوٹ پیدا کرنے کو انتہاپسند افراد کا کام یاد کیا اور متعلقہ حکام سے درخواست کی ایسے عناصر کی راہ روک لیں۔
مولانا محمد طیب نے کہا: سوال یہ ہے کہ کیا نماز پڑھنے سے بدامنی پیدا ہوجاتی ہے؟ حالانکہ نماز سے مزید امن پیدا ہوجاتاہے۔ ہم مسجدوں میں سیاسی سرگرمیاں نہیں رکھتے بلکہ صرف جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں۔ چھتیس برسوں سے سنی علمائے کرام تہران میں ایک مسجد کا مطالبہ پیش کررہے ہیں، لیکن اب تک ان کے اس جائز مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا نماز سے روکنا اور نمازخانوں پر پابندی لگانا ہرگز ایک ایسے ملک کی شایان شان نہیں ہے جو دنیا میں اتحاد کا جھنڈا لے کر وحدت کے علمبردار ہونے کا دعویدار ہے۔

مولانا محمدعثمان قلندرزہی، مہتمم مدینة العلوم خاش نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: نماز قائم کرنا کوئی سیاسی یا فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں ہے۔ نماز کے قیام کے لیے کسی سرکاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے، اللہ ہی نے اس کی اجازت بلکہ حکم دیاہے۔ وزیر ثقافت نے بھی واضح کیا ہے نماز پڑھنے کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
جامع مسجد الخلیل کے خطیب نے مزیدکہا: یہ ضدی اور خودرائے لوگ جو نمازخانوں کو بند کرتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کسی دن اللہ کے دربار میں انہیں لایاجائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ اللہ کے فرض اور نماز سے کیوں منع کیا؟! اللہ تعالی کا ارشاد ہے جو اللہ کی مسجدوں سے منع کرتاہے کہ ان میں اللہ کی یاد ہو، اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتاہے؟
ایرانشہر سے تعلق رکھنے والے سنی عالم دین مولانا عبدالصمد کریم زائی نے بھی تہران سمیت دیگر علاقوں میں سنی نمازیوں کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایسے عناصر کو قانون کے مطابق سزا دینے کی درخواست کی۔
جامع مسجد الزہرا کے خطیب نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران مسلمانوں کے اتحاد کے لیے بھاری اخراجات برداشت کرتاہے، ایسے میں کچھ عناصر لوگوں کو تراویح کی نماز سے روکتے ہیں یا انہیں اپنی فقہ کے مطابق نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ایسے اقدامات سے تمہیں کیا فائدہ حاصل ہوتاہے؟ ہر شخص کا عقیدہ قابل احترام ہے۔ امید ہے نادان اور انتہاپسند لوگوں کو روک دیا جائے گا۔

اس سے قبل شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بھی زاہدان میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا: جس ملک میں اتحاد اور بھائی چارہ قائم ہے، حیرت کی بات ہے یہاں بعض علاقوں میں نماز تک برداشت نہیں کی جاتی ہے۔ نماز سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتاہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں نماز کے حوالے سے حساسیت نہیں دکھائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا: ہم ہرگز اپنی نماز کے مسئلے پر چشم پوشی سے کام نہیں لیں گے۔ یہ ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے کہ ہمارے نمازخانوں کو تالہ لگایاجائے یا پولیس ہمیں نماز پڑھنے کے حوالے سے دھمکی دیدے۔
یاد رہے رمضان سے قبل مشہد میں ایک سنی نمازخانہ عارضی طورپر سیل ہوگیا تھا۔ تہران کے فرون آباد سٹی میں رمضان کی آمد کے بعد ایک نمازخانہ بند کردیا گیا۔ تہران شہر میں بھی افطار سے قبل نمازیوں کو بعض نمازخانوں کے باہر ہی سے واپس گھر بھیج دیا جارہاہے۔ خراسان کے شہر اسدیہ سے بھی اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایک مسجد پر تالہ لگایا گیا تھا جو اگلے دن نمازیوں کے لیے کھول دی گئی۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago