In this Thursday, Nov. 30, 2006 file photo Unidentified women are seen wearing a niqab during a demonstration outside the Dutch parliament against a proposed ban on the burqa, in The Hague, Netherlands. Belgian politicians will vote on April 22, 2010 on whether to ban the burqa and other body and face covering attire. The proposed ban could become law by July and apply to all public places, including streets. (AP Photo/ Fred Ernst, File)
بلغاریہ کے وسطی قصبے پزاردژیک میں مکمل حجاب اوڑھنے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔مقامی حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قصبے کی آبادیوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور سکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
اس بلقانی ریاست میں خواتین پر مکمل برقع اوڑھنے پر اپنی نوعیت کی یہ پہلی پابندی ہے اور قریباً ستر ہزار آبادی والے اس قصبے میں تمام سیاسی گروپوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔اس قصبے میں مسلم روما خواتین میں مکمل برقع اوڑھنے کا رجحان عام ہوتا جارہا تھا۔
مئیر ٹوڈور پوپوف نے قومی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” پزاردژیک برقعوں کا قصبہ بنتا جارہا ہے،یہ سن سن کر میرے کان پک گئے تھے۔ہم بلند آہنگ آواز میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ایسے نہیں ہیں بلکہ یہ ذمے دار لوگوں کا قصبہ ہے اور ہمیں دوسری کامیابیوں سے جوڑا جائے”۔
مسلمان بلغاریہ کی کل 72 لاکھ آبادی کا 12 فی صد ہیں۔ان میں زیادہ تر یہاں صدیوں سے آباد ترک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی خواتین میں چہرے کا پردہ یا مکمل برقع عام نہیں ہے۔
مئیر پوپوف کا کہنا ہے کہ برقع اوڑھنے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین پر جرمانہ عاید کیا جائے گا۔پولیس کا موقف ہے کہ برقع والی خواتین کی فوری شناخت میں مشکل ہوتی ہے کیونکہ ان کی صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں۔
روما اقلیت سے تعلق رکھنے والے مسلمان قدامت پسندی پر عمل پیرا ہیں اور ان کی خواتین نے حالیہ برسوں کے دوران مکمل برقع اوڑھنا شروع کردیا ہے۔اس پر پزاردژیک کے قوم پرستوں اور دوسرے مکینوں نے اپنے مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا تھا۔
بہت سے بلغاری اس بات پر مشوش ہیں کہ مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے مہاجرین کی یورپ میں جوق درجوق آمد سے ان کے آرتھو ڈکس عیسائی کلچر کے لیے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ ملک میں قدیمی آباد مسلم اقلیت کو راسخ العقیدہ ( ریڈیکل) بنا سکتے ہیں۔
فروری میں تیرہ افراد کے خلاف شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں لوگوں کو شامل کرنے میں مدد دینے کے الزام میں مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تھا۔ان پر انتہا پسندانہ نظریے کی تشہیر اور جنگ کی شہ دینے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔ان مشتبہ افراد میں زیادہ تر کا تعلق پزاردژیک کی روما اقلیت سے تھا۔
اپریل کے اوائل میں بلغاری حکومت کے حامی قوم پرست محب الوطن فرنٹ اتحاد نے ملک بھر میں مکمل حجاب اوڑھنے پر پابندی عاید کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس طرح کا لباس بلغاری مسلمانوں میں عام نہیں ہے۔
قوم پرستوں نے اپنی تجویز کے حق میں یہ دلیل دی تھی کہ مکمل پردہ قومی سلامتی کے لیے خطرے کی علامت ہے۔بلغاریہ میں مسلم خواتین کے حجاب اوڑھنے کا مسئلہ پیرس اور برسلز میں داعش کے جنگجوؤں کے بم حملوں کے بعد زیادہ اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…