Republican U.S. presidential candidate Donald Trump delivers a foreign policy speech at the Mayflower Hotel in Washington, United States, April 27, 2016. REUTERS/Jim Bourg
امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اسلام مخالف اشتعال انگیز بیانات دینے کے لیے مشہور تو ہیں ہی۔ اب انھوں نے نیا بیان یہ داغا ہے کہ اگر وہ صدر بن گئے تو اسلامی انتہا پسندی کو پھیلنے سے روکنا ان کی انتظامیہ کی ترجیح ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریر میں اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کیے ہیں اور کہا ہے کہ ”ریڈیکل (راسخ العقیدہ) اسلام کو پھیلنے سے روکنا امریکا اور درحقیقت پوری دنیا کی خارجہ پالیسی کا بڑا ہدف ہونا چاہیے”۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہوٹل کے بال روم میں ٹیلی پرامٹر کی مدد سے یہ تقریر کی ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ زیادہ بہتر صدر بن سکتے ہیں۔انھوں نے ماضی کی شعلہ بیانی سے آگے بڑھتے ہوئے سنجیدہ بننے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے کہا:” اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی کے گردوغبار کو جھاڑ پونچھ دیا جائے”۔انھوں نے اس تقریر میں صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کو ایک تباہی قرار دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…