ترکی میں ہفتے کے روز متعدد ذمہ داران نے بتایا ہے کہ حکام یونان سے واپس کیے جانے والے مہاجرین کے اندراج کے لیے دو مراکز کی تیاری پر کام کررہے ہیں۔ ان افراد کو یورپی یونین اور انقرہ حکومت کے درمیان معاہدے کے تحت واپس بھیجا جارہا ہے۔ اس معاہدے کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا۔
ترکی کے حکام 20 مارچ کو دستخط کیے گئے متنازع معاہدے کے مطابق ان شامی اور دیگر پناہ گزینوں کی واپسی کے منتظر ہیں جنہوں نے یونان کا رخ کرتے ہوئے بحیرہ ایجیئن کو عبور کیا تھا۔
اس معاہدے کا مقصد یورپی یونین کی جانب پناہ گزینوں کے ٹھاٹے مارتے سمندر کو روکنا ہے۔
اس سلسلے میں مقامی بلدیہ کے سربراہ کے مطابق یونانی جزیرہ خیوس کے مقابل ترکی کے صوبے ازمیر میں واقع تفریحی مقام شیشما میں پناہ گزینوں کے لیے کام جاری ہے۔
بلدیہ کے سربراہ محی الدین دالگیچ نے اناضول نیوز ایجنسی کو دیے گئے بیان میں باور کرایا ہے کہ بندرگاہ کے نزدیک 500 مربع میٹر کے رقبے پر پانی کی لائنیں اور بجلی کے کیبل بچھائے جارہے ہیں اور یہ جگہ بطور مرکز استعمال کی جائے گی۔ یہاں ایک کیمپ بھی ہوگا جہاں حکام مہاجرین کے انگلیوں کے نشانات لے کر ان کا اندراج کرسکیں گے اور ساتھ ہی یہاں طبی ٹیمیں بھی موجود ہوں گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…