فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ صہیونی حکام نے رواں سال فروری میں گولیاں مار کر زخمی حالت میں گرفتارکی گئی ایک فلسطینی دو شیزہ کو کسی قسم کے علاج کی سہولت مہیا نہیں کی ہے جس کے نتیجے میں اسیرہ کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکام نے فلسطینی 21 سالہ یاسمین الزور کو فروری میں الخلیل شہر میں گولیاں مار کر شدید زخمی کیا۔ بعد ازاں اسے اسے اسی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔ گولیاں لگنے سے اس کی ٹانگوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر گہرے زخم آئے ہیں۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ یاسمین الزور اس وقت اسرائیل کے ’’ھشارون‘‘ جیل میں پابند سلاسل ہے جہاں اسے ڈیڑھ ماہ گذر جانے کے باوجود کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی ہے۔ کلب برائے اسیران کے مندوب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ھشارون جیل میں یاسمین الزور کی حالت کا جائزہ لیا ہے۔ وہ شدت تکلیف کے باعث بیشتر اوقات میں بے ہوش رہتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یاسمین الزور کو فوری طور طبی سہولت فراہم نہ کی گئی تو اس کے نتیجے میں اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتےہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…