فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ صہیونی حکام نے رواں سال فروری میں گولیاں مار کر زخمی حالت میں گرفتارکی گئی ایک فلسطینی دو شیزہ کو کسی قسم کے علاج کی سہولت مہیا نہیں کی ہے جس کے نتیجے میں اسیرہ کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکام نے فلسطینی 21 سالہ یاسمین الزور کو فروری میں الخلیل شہر میں گولیاں مار کر شدید زخمی کیا۔ بعد ازاں اسے اسے اسی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔ گولیاں لگنے سے اس کی ٹانگوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر گہرے زخم آئے ہیں۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ یاسمین الزور اس وقت اسرائیل کے ’’ھشارون‘‘ جیل میں پابند سلاسل ہے جہاں اسے ڈیڑھ ماہ گذر جانے کے باوجود کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی ہے۔ کلب برائے اسیران کے مندوب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ھشارون جیل میں یاسمین الزور کی حالت کا جائزہ لیا ہے۔ وہ شدت تکلیف کے باعث بیشتر اوقات میں بے ہوش رہتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یاسمین الزور کو فوری طور طبی سہولت فراہم نہ کی گئی تو اس کے نتیجے میں اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتےہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید