Syrians wait for the arrival of an aid convoy on January 11, 2016 in the besieged town of Madaya as part of a landmark six-month deal reached in September for an end to hostilities in those areas in exchange for humanitarian assistance. Forty-four trucks operated by the International Committee of the Red Cross, the Syrian Red Crescent, the United Nations and World Food Programme left from Damascus to enter Madaya, where more than two dozen people are reported to have starved to death. / AFP / STRINGER
اقوام متحدہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شامی حکومت نے فوجی محاصرے کے شکار سات مقامات میں امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کی ترجمان نے غیرملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی ’’اسٹیفن ڈی مسٹورا‘‘ کے دورہ دمشق کے بعد شامی حکومت نے محاصرے کے شکار سات شہروں میں امادادی سرگرمیوں کے لیے رضاکاروں کی ان مقامات تک رسائی کی اجازت دی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کی جانب سے محاصرہ زدہ شہروں دیر الزور، الفوعہ، کفریا، ادلب گورنری، مضایا، زبدانی، کفر بطنہ اور معظمیہ الشام میں امدادی قافلوں کو رسائی دینے کی اجازت دی ہے۔ پیش آئند ایام میں ان علاقوں میں متاثرین تک خوراک اور دیگر امدادی سامان فراہم کرنا شروع کر دیا جائے گا۔
قبل ازیں منگل کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ڈی مسٹورا نے بھی دمشق میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ فوجی محاصرے کے شکار کچھ مقامات پرکل بدھ سے امدادی سامان کی فراہمی شروع کی جائے گی۔
یو این ایلچی کا کہنا تھا کہ انہوں ںے شامی وزیرخارجہ ولید المعلم سے محاصرہ زدہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے سلسلے میں بات چیت کی ہے جس کے بعد دمشق حکومت محاصرے کے شکار علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے رضامند ہو گئی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار