افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں جنگجو طالبان کی پیش قدمی کے نتیجے میں درجنوں افغان فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔
تین مقامی افسروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبے میں مختلف مقامات پر لڑائی میں 25 فوجی اور 27 پولیس اہلکار مارے گئے۔
2014 میں غیر ملکی فوج کے انخلا کے بعد اکیلے ہی طالبان کا مقابلہ کرنے والی افغان سیکیورٹی فورسز کئی مہینوں سے ہلمند میں عسکریت پسندی روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
گزشتہ سال ملک میں کم از کم 11000 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔
ہلمند میں لڑائی کے علاوہ طالبان کے شمالی صوبوں قندوز اور بغلان میں سرگرمیوں نے حالیہ دنوں میں سرکاری فورسز کو شدید نقصان پہنچایا۔
اتوار کو ہلمند میں پیش آنے والے بدترین واقعہ میں جنگجوؤں نے بارود سے بھری فوجی ہموی گاڑیوں کی مدد سے سنگین میں ایک چیک پوسٹ پر خود کش حملہ کرتے ہوئے سات فوجیوں اور 15 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
حکام کے مطابق، سنگین میں نو فوجی لڑائی میں ہلاک ہوئے جبکہ ضلع موسی قلعہ میں بھی اتنی ہی ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔
امریکی اندازوں کے مطابق، ملک کے ایک تہائی حصے پر قابض یا خطرہ بننے والے طالبان ہلمند کے وسیع و عریض حصوں پر قابض ہیں۔
ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ مرجاح میں اس وقت تقریباً 250 پولیس اہلکار اور 300 فوجی طالبان کے گھیرے میں ہیں اور ’ہم انہیں فضا سے مدد فراہم کر رہے ہیں‘۔
’سنگین کی پیشتر سڑکیں بارودی ڈیوائسز کی وجہ سے بند ہیں اور ہم اپنے تازہ دستے بھیجنے سے قاصر ہیں‘۔
ڈان نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید