REFILE - ADDING NAME OF IMAM U.S. President Barack Obama receives a tour from the Grand Imam Tan Sri Syaikh Ismail Muhammad (L) and Abdul Rashid Bin Md Isa (R) while he visits the Warrior Mausoleum at the National Mosque of Malaysia in Kuala Lumpur April 27, 2014. REUTERS/Larry Downing (MALAYSIA - Tags: POLITICS)
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر باراک اوباما آئندہ بدھ کے روز پہلی مرتبہ امریکا کی کسی مسجد کا دورہ کریں گے۔
عقیدے کی آزادی کے دفاع کے مقصد سے کیے جانے والے اس دورے کا اعلان، امریکا میں مسلمان مخالف تقاریر میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ذمہ دار کے مطابق اوباما بالٹی مور شہر میں اسلامک کمیونٹی کی مسجد کا دورہ کریں گے، جہاں وہ مسلمانوں کے ساتھ مکالمے کے دوران اپنا موقف بھی پیش کریں گے۔ ذمہ دار نے مزید بتایا کہ اوباما اس دورے کے دوران ” ہماری بنیادی اقدار کی اہمیت کو باور کرائیں گے جن میں امریکی ہم وطنوں کا خیرمقدم، تعصب کا خاتمہ اور عقیدے کی آزادی میں ہمارے قومی رواج کا تحفظ شامل ہیں”۔
اوباما اس سے قبل اپنے غیرملکی دوروں میں مساجد کا دورہ کر چکے ہیں۔
باراک اوباما نے جن کی مدت صدارت کا ایک ہی سال باقی رہ گیا ہے، امریکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی شخصیات بالخصوص ممکنہ ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام معاند تبصروں کو یکسر مسترد کر دیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنہیں سروے رپورٹوں کے مطابق ریپبلکن صدارتی امیدواروں میں برتری حاصل ہے، مطالبہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو امریکا کا دورہ کرنے سے روک دیا جائے۔ ٹرمپ کا یہ بیان دسمبر میں کیلی فورنیا کے شہر سان برنرڈینو میں ایک مسلمان جوڑے کے ہاتھوں فائرنگ کے واقعے میں 14 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا تھا۔
گزشتہ ماہ گیلپ کی جانب سے کرائے جانے والے ایک سروے کے مطابق امریکی شہری اپنے ملک کو درپیش اہم ترین مسئلہ اب دہشت گردی کو سمجھتے ہیں۔
العربیہ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام