اسلام ومسلمانوں سے مخصاصمت، تعصب کے تعلق سے تاجکستان حکومت کیطرف سے ایک ایسی نا خوش کن، غمگین، او ر حیرت انگیز خبر آئی ہے کہ جس سے پتہ چلتا ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف تاجکستان حکومت غیر انسانی حرکات پر اتر آئی ہے۔
گزشتہ چھ ماہ میں تاجک صدر امام علی رحمانوف کے احکامات پر پولس اور سیکورٹی اداروں نے۵۰؍ہزار مسلمانوں کی داڑھی مونڈدیں میڈیارپورٹس کے مطابق تاجک پولس اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے مسلمانوں کو گرفتارکرکے انہیں داڑھیاں مونڈنے کے احکامات دئے گئے لیکن مسلمانوں کی جانب سے داڑھی مونڈنے سے انکار کے بعد پولس نے ۱۳؍ہزار مسلمانوں کودوبارہ گرفتا ر کرکے حراستی مراکز مین زبردستی انکی داڈھیاں مونڈدی گئی۔
دوسری جانب مقامی اسلام پسندوں کا کہنا ہے کہ جن نوجواں اور معمر مسلمانوں کی داڑھیاں مونڈی گئی ہیں ان کی تعداد ۵۰؍ہزار سے بھی زیاد ہ ہے حالیہ واقعہ کی وجہ سے تاجکستان میں مسلم نوجوانوں میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے کیونکہ امام علی رحمانوف کے احکامات پر نہ صرف مساجد و مدارس پر کریک ڈاؤن جاری ہے بلکہ امام وخطیب حضرات کے سواکسی اور کو داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ ۲۰؍سال سے کم عمر نوجوانوں کو نماز کی ادائیگی اور قرآنی تعلیمات سے زبردستی دور رکھا جارہاہے جب کہ ۲۰۱۵ کے ایک خصوصی حکم نامہ کے تحت ۴۰؍سال سے کم عمرکے تاجک مسلمانوں پر حج وعمرہ پر جانے کی پابندی عائد کردیگئی ہے اور اس حوالے سے ٹور آپریٹرز کو سختی سے پابندبنایاگیاہے واضح رہے کہ تاجک حکومت کی ایک خصوصی کمیٹی برائے حج وعمرہ کی جانب سے ۱۵؍اپریل ۲۰۱۵ کو جاری جائے جانے والے ایک مراسلے مین تمام حج وعمرہ ٹو رآپریٹرز کو پابند کردیاگیاہے کہ وہ۴۰؍سال سے کم عمر مسلم شہریوں اور داڑھی والوں کے پاسپورٹ کوحج یاعمرہ کی ویزاپراسیسنگ میں شامل نہ کریں پولس کو خصوصی احکامات دئے گئے ہیں کہ چور اور ڈاکوؤں کو بعد میں پکڑو لیکن داڑھی والو ں کو دیکھتے ہی گرفتارکرلو کیو ں کہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان ہیں روسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسے واقعات سامنے آئے ہیں۔
تاجک دارالحکومت (دوشنبہ) میں پولس نے سرراہ چلتے عام مسلمانوں کو داڑھی رکھنے پر سڑک پر ہی تشدد کانشانہ بنایا اور قینچی سے ان کی داڑھیاں کاٹ دی گئی اس ضمن میں تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ سے ملنے والی مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ اسلام اور اسلامی شعائر کے دشمن ،صد ر مملکت امام علی رحمانوف کے سخت ترین احکامات پرپولس ،انٹلی جینس اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے اسلام پسند اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو نماز عشاء یا فجر کے لئے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا جنہیں جیلوں میں اذیتیں دی جارہی ہے۔ اس حوالے سے گرفتاریوں کی تعداد کم از کم ایک لاکھ سے زیادہ بتائی جارہی ہے جن میں اسکارف پہننے والی خواتین بھی شامل ہیں۔
روسی میڈیا کا کہناہے کہ تاجک حکومت کے احکامات پر تمام دینی مدارس میں سیکولرنصاب رائج کرکے ان کی نگرانی کا عمل سخت کردیاگیاہے جب کہ اسلامی ممالک میں مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے جانے والے تمام تاجک طلبہ کو واپس بلوالیا گیاہے علاوہ ازیں مساجد میں ۲۰؍سال سے کم عمر نوجوانوں کو جانے سے روکنے کا قانون بھی نافذ کردیا گیاہے تمام اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طالبات کے لئے سر ڈھانپنا خلاف قانون قرار دیاگیاہے نیز جہاد پر یقین رکھنے والی مختلف تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیکر ان پر پانبدی عائد کردی ہے حکومت نے ملک بھر میں ایسی دکانوں کو بند کرنے کے احکامات دئے ہیں جہاں ٹوپی، مصلٰی، جائے نماز، اسلامی اسکارف ودیگر اسلامی لباس فروخت کئے جاتے تھے۔
العربیہ نیوز پورٹل کی رپورٹ کے مطابق تاجک حکومت نے مسلمانوں کو عربی نام رکھنے سے روکنے کاقانون بنادیاہے اورکسی ایسے بچے کا نام رجسٹرڈ ہی نہیں کیاجارہاہے جو عربی یااسلامی ہو۔ تاجک کی نام نہاد اسلام ومسلمان دشمن سیکولر حکومت کہتی ہے کہ یہ سب سخت اقدامات انتہاپسندی کوروکنے کے لئے کئے جارہے ہیں بہر کیف مجموعی اعتبارسے اس وقت پوری دنیا کا مسلمان شدید ترین امتحان سے گزر رہاہے اور پورے عالم کے کسی نہ کسی حصہ میں مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی طاقت سرگرم ہے قرائن بتارہے ہیں کہ کچھ یہی صورت حال مسلمانوں کے تعلق سے ملک عزیزمیں بھی بنتی جارہی ہے مسلمانوں کی صفوں میں اتحاداس وقت کی سب سے اہم اور شدید ترین ضرورت ہے اور انتشار میں انکی موت ہے یا اللہ رحم فرمااور سچ تو یہ ہے کہ اب ہم رحم کے قابل بھی نہیں رہے اب تو کوئی ٹھوکر ہی ہمیں سدھارے تو سدھارے آپ کے فضل وکرم کے سارے سہارے تو ہم نے خود ہی اپنے ہاتھوں سے ڈھادئے ہیں۔
مولاناغیاث الدین دہام پوری
فکر و اخبار ڈاٹ کام
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…