پاکستان کی اکثر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے ایک اجلاس میں حکومت سے گوادر کی بندرگاہ کے منصوبے کا مکمل اختیار فوری طور پر بلوچستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں اتوار کو منعقدہ اجلاس میں چین راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کو پہلے مکمل کرنے اور بلوچستان میں ملازمتوں میں بلوچوں کو ترجیح اور وسائل پر ان کا حق تسلیم کرنے کی بات بھی کی گئی۔
حکومت پاکستان ملک میں چین کے تعاون سے اربوں ڈالرز مالیت کے جس اقتصادی راہداری کے منصوبے پر تیزی سے آگے بڑھانا چاہ رہی ہے اس میں وقت کے ساتھ ساتھ دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔
اس منصوبے خصوصا گوادر پر اس کے اثرات سے متعلق خدشات پر غور کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے کل جماعتی اجلاس اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کیا۔
ملک بھر سے تمام اہم سیاسی جماعتوں کی اعلی قیادت نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ سابق چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی اس اجلاس میں اپنی نئی جماعت کی نمائندگی کر رہے تھے۔
عموما ایسے اجلاسوں میں یکطرفہ حزب اختلاف یا حزب اقتدار حاوی رہتی ہے تاہم شاید 46 ارب ڈالر کے اس منصوبے کی اہمیت اتنی ہے کہ حکومت کے دو وزراء بھی شریک ہوئی اور حکومت کا موقف بیان کیا۔
یہ اجلاس تقریبا آٹھ گھنٹے تک جاری رہا جس میں ماضی کے قوم پرستوں کے تحفظات، حال کے ماہرین کے خیالات اور بہتر مستقبل کے خواب لیے حکومت کے نمائندے بھی موجود تھے۔
حالیہ دنوں میں اس منصوبے کے خلاف کھل کر باتیں کرنے والے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے میں سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ اس منصوے کی وجہ سے بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کی خاطر فوری قانون سازی کی جائے۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں اس منصوبے کے نتیجے میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں بھی مقامی لوگوں کو شرکت دار بنانے کے لیے بھی قانون سازی پر زور دیا گیا ہے۔
بیان میں گوادر میں اس لاکھوں ایکڑ اراضی کو بھی اصل مالکان کو لوٹانے کا بھی ذکر شامل ہے جس پر حکومت کی جانب سے ’زبردستی قبضہ‘ کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما اور سینیٹر حاصل بزنجو نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر 18ویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمد ہو تو صوبوں کے درمیان کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ بلوچ اپنا تشخص اور زبان نہیں کھونا چاہتے ہیں اور انھیں اس کی ضمانت چاہیے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ صوبہ بلوچستان پر اس منصوبے سے سات ارب ڈالرز سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ راہداری کا منصوبہ کسی ایک صوبے کا نہیں پورے ملک کا ہے۔
حالیہ دنوں میں اس منصوبے کے خلاف کھل کر باتیں کرنے والے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے میں سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ اس منصوے کی وجہ سے بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کی خاطر فوری قانون سازی کی جائے۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں اس منصوبے کے نتیجے میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں بھی مقامی لوگوں کو شرکت دار بنانے کے لیے بھی قانون سازی پر زور دیا گیا ہے۔
بیان میں گوادر میں اس لاکھوں ایکڑ اراضی کو بھی اصل مالکان کو لوٹانے کا بھی ذکر شامل ہے جس پر حکومت کی جانب سے ’زبردستی قبضہ‘ کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما اور سینیٹر حاصل بزنجو نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر 18ویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمد ہو تو صوبوں کے درمیان کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ بلوچ اپنا تشخص اور زبان نہیں کھونا چاہتے ہیں اور انھیں اس کی ضمانت چاہیے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ صوبہ بلوچستان پر اس منصوبے سے سات ارب ڈالرز سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ راہداری کا منصوبہ کسی ایک صوبے کا نہیں پورے ملک کا ہے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…