فرانس کی سینکڑوں مساجد نے ہفتے اور اتوار کو عام لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ غیر مسلمانوں کو اپنی ثقافت سے آگاہ کر سکیں۔
ایسے وقت جب اسلامی انتہا پسندانہ حملوں کے نتیجے میں اْن کے عقیدے کے بارے میں منفی تاثر پھیل رہا ہے۔اِس مہم میں فرانس کی تمام 2500 مساجد شریک نہیں ہیں، جن میں سب سے زیادہ معروف پیرس کی جامع مسجد ہے۔ اس سعی کی حمایت ملک کی سرکردہ مسلمان تنظیم فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کر رہی ہے۔
گروپ کے سربراہ، انوار قبیش نے اخباری نمائندوں کو بتاہا ہے کہ مساجد نے شہریوں کو عام مسلمانوں سے ملنے کی دعوت دی ہے، تاکہ وہ تواضع کی محافل، ورکشاپس اور گفتگو میں شریک ہو سکیں، یا پھر پانچ میں سے کسی بھی نماز کی ادائیگی کے دوران شریک ہو سکیں۔
ایسی تقاریب کو برادرانہ چائے کا کپ کہا جاتا ہے۔ اس کا آغاز مزاحیہ رسالے چارلی ہیبڈو پر ہونے والے حملوں کی پہلی برسی کے موقع پر کیا گیا، جو 7 سے 11 جنوری تک منائی جارہی ہے۔ واقع کے بعد لاکھوں لوگوں نے شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا، جس کا مقصد حملوں میں ہلاک شدگان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا۔
جنگ نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…