فرانس کی سینکڑوں مساجد نے ہفتے اور اتوار کو عام لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ غیر مسلمانوں کو اپنی ثقافت سے آگاہ کر سکیں۔
ایسے وقت جب اسلامی انتہا پسندانہ حملوں کے نتیجے میں اْن کے عقیدے کے بارے میں منفی تاثر پھیل رہا ہے۔اِس مہم میں فرانس کی تمام 2500 مساجد شریک نہیں ہیں، جن میں سب سے زیادہ معروف پیرس کی جامع مسجد ہے۔ اس سعی کی حمایت ملک کی سرکردہ مسلمان تنظیم فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کر رہی ہے۔
گروپ کے سربراہ، انوار قبیش نے اخباری نمائندوں کو بتاہا ہے کہ مساجد نے شہریوں کو عام مسلمانوں سے ملنے کی دعوت دی ہے، تاکہ وہ تواضع کی محافل، ورکشاپس اور گفتگو میں شریک ہو سکیں، یا پھر پانچ میں سے کسی بھی نماز کی ادائیگی کے دوران شریک ہو سکیں۔
ایسی تقاریب کو برادرانہ چائے کا کپ کہا جاتا ہے۔ اس کا آغاز مزاحیہ رسالے چارلی ہیبڈو پر ہونے والے حملوں کی پہلی برسی کے موقع پر کیا گیا، جو 7 سے 11 جنوری تک منائی جارہی ہے۔ واقع کے بعد لاکھوں لوگوں نے شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا، جس کا مقصد حملوں میں ہلاک شدگان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا۔
جنگ نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…