In this Nov. 11, 2015, photo, Saudi Arabian Deputy Crown Prince Mohammed bin Salman attends a summit of Arab and Latin American leaders in Riyadh, Saudi Arabia. Saudi Arabia said Tuesday, Dec. 15, that 34 nations have agreed to form a new "Islamic military alliance" to fight terrorism with a joint operations center based in the kingdom's capital, Riyadh. Mohammed bin Salman said the new Islamic military coalition will develop mechanisms for working with other countries and international bodies to support counterterrorism efforts. (AP Photo/Hasan Jamali)
سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور ایران کے درمیان جنگ ایک تباہی کا آغاز ہوگی اور الریاض اس جنگ کی اجازت نہیں دے گا۔
انھوں نے یہ بات برطانوی جریدے اکنامسٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی ہم کوئی پیشین گوئی نہیں کرسکتے ہیں اور جو کوئی بھی جنگ کی شہ دے رہا ہے،اس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے”۔
انھوں نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ”اس (جنگ) کے دنیا پر بہت سخت اثرات مرتب ہوں گے۔ہم یقینی طور پر ایسی کسی چیز کی اجازت نہیں دیں گے”۔ اکانومسٹ کے صحافیوں نے شہزادہ سلمان سے پانچ گھنٹے تک گفتگو کی ہے اور یہ ان کا پہلا آن ریکارڈ انٹرویو ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کے ساتھ حالیہ سفارتی کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ ”ہمیں خدشہ ہے،وہ (ایرانی) اس کو مزید بڑھاوا دیں گے۔ذرا تصور کریں کہ اگر ایران میں کسی سعودی سفارت کار یا اس کے خاندان یا بچوں پر حملہ ہوتا ہے تو پھر ایران کی پوزیشن مزید مشکل سے دوچار ہوجائے گی”۔
گذشتہ ہفتے کے روز سعودی عرب میں شیعہ عالم نمر النمر کا دہشت گردی اور بغاوت کے جرم میں سرقلم کیے جانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور ان کی عمارتوں میں گھس کر آگ لگا دی تھی جبکہ بعض ایرانی لیڈروں نے سعودی عرب کے خلاف تند وتیز بیانات جاری کیے تھے۔ان واقعات کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان سلمان کی میڈیا سے یہ پہلی گفتگو کی ہے اور انھوں نے ایرانی سیاسی لیڈروں کے اشتعال انگیز لب ولہجے کے برعکس انٹرویو کے دوران محتاط الفاظ میں بات چیت کی ہے۔
ایران میں جنیوا کنونشنز کی اس انداز میں کھلے عام پامالی کے ردعمل میں خلیج تعاون کونسل میں شامل چھے میں سے دو سعودی عرب اور بحرین نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔کویت اورقطر نے اپنے سفیروں کو تہران سے واپس بلا لیا ہے اور پانچویں ملک متحدہ عرب امارات نے بھی اپنا سفارتی درجہ گھٹا دیا ہے اور ایران کو سفارتی عملہ کرنے کے لیے کہہ دیا ہے جبکہ چھٹے ملک سلطنت آف اومان نے ایران سے تعلقات برقرار رکھنے یا منقطع کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…