فرانس کے جزیرے کورسیکا میں انتہا پسندوں نے مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے جزیرے کورسیکا کے دارالحکومت اجیکسو میں تقریباً 600 افراد کرسمس ڈے والے روز ایک پولیس اہلکار اور دو ریسکیو ورکرز پر حملے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے کہ مظاہرین میں سے مشتعل افراد نے قریب ہی واقع مسجد پر دھاوا بول دیا، شدت پسندوں نے مسجد کے شیشے توڑ دیئے اور اندر گھس کر قران پاک کے نسخے جلائے اور 50 کے قریب نسخے سڑک پر پھینک دیئے۔
مظاہرین نے مسلم مخالف بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جس پر آویزاں تھا کہ ’یہ ہمارا ملک ہے، عرب یہاں سے نکل جاؤ‘۔ واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پایا جب کہ اجیکسو میں موجود مساجد کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی۔
فرانس کے وزیراعظم مینئول والس نے مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ توڑ پھوڑ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، اس کے علاوہ انھوں نے پولیس اور ریسکیو اہلکاروں پر حملے کی بھی مذمت کی۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…