پیرس حملوں کے بعد نہ صرف فرانس بلکہ دیگر یورپی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہورہا ہے اور حکومتیں بھی نسل پرستی کا مظاہرہ کررہی ہیں اسی لیے کئی سال سے پیرس ایئر پورٹ پر کام کرنے والے دو مسلمان سیکورٹی گارڈز کو ان کی داڑھی بڑی ہونے کا بہانہ لگا کر برطرف کردیا گیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پیرس ایئر پورٹ سے برطرف کیے جانے والے سیکورٹی گارڈ 28 سالہ نوجوان بشیر کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 5 سال سے ایئرپورٹ پر سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی انجام دے رہا ہے اور اس نے تحریری درخواست کی تھی کہ اسے تعصبانہ رویے کا نشانہ بنایا جا رہا تھا لیکن بجائے اس پر کوئی ایکشن لیے جانے کے اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ بشیر کا کہنا تھا کہ ملازمت کے دوران اسے منفی تبصروں کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا جب کہ داڑھی سے متعلق بارہا صفائی دینے پر بھی اسے منفی رویے کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
دوسرے سیکورٹی گارڈ کے مطابق اسے بھی لمبی داڑھی کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کیا گیا جب کہ اسے طبی بنیادوں پر نوکری سے نکالنے کا کہا گیا۔ دونوں افراد نے ایئر پورٹ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔
دوسری جانب ایئرپورٹ سیکیورٹی فرم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بشیرکو ملازمت کے اصول و ضوابط کی شدید خلاف ورزی پر برطرف کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بشیر کو برطرف کرنے کے اسباب میں داڑھی بھی ایک سبب ہے لیکن اس کے علاوہ مسلسل چھٹیاں کرنا، تاخیر سے آنا اوربغیر کسی وجہ کے ادھر ادھر گھومنا بھی بڑے اسباب ہیں۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…