برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں آسٹریلین مسلم پارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اس کے بانی دیا محمد نے کہا کہ ان کی جماعت آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔
اس جماعت کے قیام کا مقصد مسلمانوں کی آواز لوگوں تک پہنچانا ہے۔ انھوں نے کہا یہاں بہت سی جماعتیں ہیں جو خصوصا اسلام اور مسلمان مخالف ہیں لیکن مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی کوئی جماعت نہیں۔
آسٹریلیا میں اسلام مخالف بہت سی جماعتیں ہیں جن میں سے ایک جماعت کی حمایت ممبر پارلیمنٹ گیرٹ ولڈرز کرتے ہیں۔
43 سالہ بزنس مین دیا محمد نے پیرس حملوں کے فوری بعد جماعت کے قیام کا اعلان کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انھوں نے بتایا حالیہ واقعے کے حوالے سے آنے والے دنوں میں بہت سے سوالات اٹھائے جائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ جماعت قائم کی ہے۔ اس لیے یہ سیاسی جماعت کے قیام کا صحیح وقت ہے۔
انھوں نے پیرس حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ اسلام میں معصوم شہریوں کو ہلاک کرنا سختی سے منع ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کبھی بھی پیرس جیسے واقعات کے بعد کسی مسلمان ملک کے خلاف جارحیت کی حمایت نہیں کرے گی۔
اردو ٹائمز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید