عالم اسلام کی عظیم شخصیت محدث،مفسر اور عالمی سکالر دارالعلوم حقانیہ کے شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر سید شیر علی شاہ بقضائے الٰہی انتقال کرگئے۔
مولانا مرحوم پاکستان اور افغانستان کے ہزاروں علماء ومشائخ کے استاد تھے انہوں نے دارالعلوم حقانیہ میں تعلیم سے فراغت کے بعد اپنے استاد اور مرشد شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ کی خواہش پر دارالعلوم حقانیہ میں تدریس کے فرائض سنبھالے اور وفات تک مسند شیخ الحدیث پر فائز رہے، انہوں نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، انہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں روس کے خلاف جہاد میں بنیادی حصہ لیا، پاکستان اور افغانستان کی جہادی قوتیں انہیں اپنا روحانی ر ہنما سمجھتی تھیں، افغانستان جا کر انہیں اور علماء کو دورہ تفسیر پڑھاتے رہے۔
انکی عمر تقریباً چھیاسی برس تھی، وہ زندگی بھر دارالعلوم کے مہتمم مولانا سمیع الحق کے جگری دوست، معتمد خاص اور سفر وحضر کے قریبی ساتھی رہے، انہوں نے تفسیر وحدیث اوردیگر علوم میں کئی اہم تصانیف صدقہ جاریہ چھوڑیں۔
وفات کی اطلاع سے پاکستان اورافغانستان کے تمام مدارس دینی جماعتوں اور علمی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی، ان کی وفات ملک کے سب سے بڑے اسلامی ادارہ دارالعلوم حقانیہ کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے، مولانا مرحوم نے شدید علالت کے باوجود پچھلے ہفتے تک دارالعلوم میں بخاری شریف اور ترمذی شریف کا درس جاری رکھا، مولانا پچھلے کئی ماہ سے دل کے عارضہ اور مختلف عوارض میں مبتلا تھے، چند دن قبل ان کی تکلیف تھے، چند دن قبل ا ن کی تکلیف بڑھ جانے سے انہیں پشاور کے آر ایم آئی ہسپتال میں داخل کیا گیا ان کو کافی افاقہ ہوا مگر آج نماز جمعہ کے بعد وہ اچانک واصل بحق ہوگئے ان کی نماز جنازہ کل بروز ہفتہ صبح گیارہ دارالعلوم حقانیہ میں ادا کیا جائے گا۔
روزنامہ پاکستان
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید