شام سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق باغیوں کے زیرِ اختیار علاقوں میں بمباری سے کم سے کم 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ بمباری دارالحکومت کے قریبی قصبے دوما اور شمالی شہر حلب کے علاقوں میں کی گئی ہے۔
شام میں انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق حکومتی فورسز نے دوما کے ایک بازار پر راکٹ داغے ہیں۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ فضائی حملے کس کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
شام میں تازہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ویانا میں شام کے تنازع کے حل کے لیے عالمی رہنما جمع تھےاور سبھی نے مسئلے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ تاہم بیشتر عالمی رہنما صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات کا شکار ہیں۔
روس کا موقف ہے کہ شامی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ جبکہ مغربی ممالک کا اصرار ہے کہ اسد کا شام کے مستبل میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔
اس حوالے سے آئندہ بات چیت دو ہفتوں میں متوقع ہے۔
اس اثنا میں امریکہ نے شام میں سپیشل فورسز بھیجنے کا اعلان بھی کیا حکومت مخالف گروہوں کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مدد کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق سپیشل فورسز میں ’50 سے کم‘ نفری شامل ہو گی۔ اور یہ پہلا موقع ہو گا کہ امریکی فورسز شام میں کھلے عام کارروائی میں حصہ لیں گے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…