بھارت میں گائے ذبح کرنے کے شک میں ایک اور مسلمان قتل

بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں نے گائے ذبح کرنے کے شک میں ایک اور بے گناہ مسلمان کو قتل کردیا۔

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر مظالم کا زور پکڑتا جارہا ہے جہاں ریاست سہارن پور میں پیش آنے والےایک اور واقعے میں ایک مسلمان کو قتل کردیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سہارن پور کے رہائشی 20 سالہ نعمان کو بھارتی انتہا پسند ہندو گروہ بجرنگ دل نے گائے ذبح کرنے کے شک میں قتل کردیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے ہندو انتہا پسند گروہ کو شک تھا کہ نعمان نامی شخص ٹرک میں مویشی بھر کر ذبح کرنے کے لیے یوپی لے جارہا تھا جس میں گائیں بھی شامل تھیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھی ریاست اتر پردیش میں 50 سالہ محمداخلاق اور ان کے 22 سالہ بیٹے کو گاؤں کے متعدد افراد نے گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں محمد اخلاق جاں بحق ہوگئے۔

مسلمانوں کو بھارت میں رہنا ہے تو گائے کا گوشت کھانا چھوڑنا ہوگا، وزیراعلی ہریانہ
گائے کا گوشت کھانے پر ہندو انتہا پسند تنظیم بے جے پی کی جانب سے شدت پسندی کے بعد بھارتی وزرا بھی سامنے آگئے لیکن اب بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیراعلی منوہارلال کھاتر نے بھی صاف کہہ دیا ہے کہ اگر مسلمانوں کو بھارت میں رہنا ہے تو گائے کا گوشت کھانا ترک کرنا ہوگا۔
بھارتی اخبار کو انٹرویو کے دوران ہریانہ کے وزیراعلی کا کہنا تھا کہ بھارت میں گائے کو مقدس علامت سمجھا جاتا ہے اس لئے مسلمانوں کو اگر بھارت میں رہنا ہے تو گائے کا گوشت کھانا چھوڑنا ہی ہوگا، دادری میں گائے کا گوشت فریج میں رکھنے پر شہری کو جلائے جانے کے واقعے پر لال کھاتر کا کہنا تھا کہ دادری حادثہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور دونوں جانب سے غلط کیا گیا تاہم انہوں نے بی جے پی کے غنڈوں کی حمایت نہ چھوڑی اور الزام عائد کیا کہ مقتول نے گائے کی شان میں گستاخی کی اس لئے مشتعل ہجوم نے اسے ہلاک کردیا۔
ریاست ہریانہ کے وزیراعلی نے کہا کہ گائے کا گوشت کھانے سے ایک کمیونٹی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور قانون اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کے جذبات سے کھیلا جائے، انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیاگیا کہ بھارت میں عیسائی بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور قانون کسی کو اس چیز پر مجبور بھی نہیں کرتا کہ آپ کو کیا کھانا ہے اور کیا نہیں جس پر لال کھاتر کا کہنا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہب میں کہیں نہیں لکھا کہ گائے کا گوشت کھانا لازمی ہے اور وہ گائے کا گوشت کھائے بغیر بھی مسلمان یا عیسائی رہ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 61 سالہ منوہار لال کھاتر 4 دہائیوں تک ہندو انتہا پسند تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری ونگ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) سے وابستہ رہے ہیں اور انہوں نے گائے سے متعلق گاؤناش سنرکشن اور گاؤ سموردھن قوانین بنائے جس کے تحت ہریانہ میں گائے کے ذبح پر پابندی عائد کی گئی جسے ان کی حکومت کی بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اور اس قانون کے تحت گائے ذبح کرنے والے کو 10 سال جیل اور گائے کا گوشت کھانے والوں کو 5 سال قید کی سزا کا حکم دیا جاتا ہے۔

ایکسپریس نیوز

baloch

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

30 minutes ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago