میانمار میں روہنگیا مسلمانوں میں صرف بھوک افلاس، غربت ہی نہیں بلکہ انسانی اسمگلنگ بھی عروج پر ہے۔ تاوان دو، شادی کرو یا پھر فروخت ہونے کے لیے تیار ہوجاو؟؟ روہنگیا عورت کے پاس چوتھا کوئی آپشن نہیں۔ میانمار کی مسلمان روہنگیائی خواتین بھوک، غربت، اور افلاس کا ہی شکار نہیں، بلکہ شادی کی آڑ میں خرید و فروخت کا بھی ظلم سہہ رہی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں روہنگیائی خواتین جو میانمار سے اچھے دنوں کی آس لیے سفر پر نکلیں، وہ اسمگلروں کے ہتھے چڑھ گئیں اور پھر ان کے پاس تین کے آپشن تھے۔ تاوان ادا کریں، کسی ایسے شخص سے شادی کریں جو ان کی آزادی کی قیمت ادا کرسکے یا پھر کسی کے بھی ہاتھوں فروخت ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اور ایسے میں ہر روہنگیائی لڑکی کے پاس شادی کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں رہتا۔ پھر چاہے وہ شادی کتنی ہی بے جوڑ کیوں نہ ہو۔ ایسی کئی بے جوڑ اور زبردستی کی شادیاں ہیں جو ان خواتین نے حالات سے مجبور ہوکر کیں۔ اور یہ سلسلہ دو ہزار بارہ سے جاری ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ سالوں میں کئی سو لڑکیوں کو ایسی شادیاں کرنا پڑی ہیں، جس کی قیمت ان کے شوہروں نے ادا کی ہیں۔
جنگ نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…