Categories: بيانات

رمضان المبارک کی کامیابیاں ضائع مت کریں

ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے رمضان المبارک کے اختتام پر زاہدان کے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس عظیم مہینے کی حاصل شدہ کامیابیاں محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔

چوبیس جولائی دوہزار پندرہ (سات شوال المکرم) کے خطبہ جمعہ میں زاہدانی سنی عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہوچکاہے اور معلوم نہیں اگلے سال ہمیں رمضان نصیب ہوگا یا نہیں! لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ اس مبارک ماہ میں حاصل کیا انہیں ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ ورنہ رمضان کے اچھے اثرات ہماری زندگیوں میں باقی نہیں رہیں گے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: رمضان المبارک کی سب سے بڑی کامیابی اقامہ نماز ہے۔ اس مہینے میں مساجد کچھا کچھ نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ لوگ مسجدوں میں نماز، تلاوت اور ذکر میں مصروف تھے۔ صدقہ و خیرات کا زورشور سے اہتمام تھا۔ تہجد کا اہتمام بھی ہوتا تھا۔ یہ سب رمضان میں ہمیں نصیب ہوئے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عبادات محض رمضان کے لیے نہیں ہیں۔ ہمیں پورے سال میں اللہ کی عبادت وبندگی کرنی چاہیے۔ رمضان آیا بھی اسی لیے کہ ہم پورے سال میں نفلی نماز، روزہ اور حج و عمرہ کا اہتمام کریں۔ ناداروں سے ہمدردی و تعاون کریں۔ سحرخیزی و تہجد میں ہمارے لیے بہت ہی خیر و برکت ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے تقوا کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: جس طرح ہم نے رمضان میں زبان، آنکھ اور کان سمیت پورے جسم کو گناہوں سے دور رکھا، رمضان کے بعد بھی ایسا ہی کریں۔ اصلی عبادات سے غافل نہ ہوں اور نفلی نماز و روزوں کا اہتمام کریں۔ ان سے ہماری اصلاح ہوجاتی ہے۔
نفس و شیطان کی کارستانیوں پر چوکس رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے انہوں نے کہا: نفس امارہ اور شیطان ہمارے دو بڑے دشمن ہیں جو ہر حال میں ہمیں گناہوں کی جانب بلاتے ہیں اور ہمیشہ لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان سخت دشمنوں کے خلاف ہمیں مزاحمت کرنی چاہیے اور شریعت پر عمل کرکے ان کی کوششوں اور کارستانیوں سے جان بچاسکتے ہیں۔

قبائلی و مذہبی نزاع بدترین لڑائی ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں لسانی و قبائلی اور مذہبی لڑائیوں کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا: دنیا میں قومیتی اور مذہبی جنگوں سے بڑھ کر کوئی بری جنگ نہیں ہے۔ اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کو باہم دست و گریباں کرنے کے لیے ہمیشہ منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ہمیں چوکس رہ کر ہوشیار رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: اگر کسی نے قتل کا ارتکاب کیا اور ناحق خون بہایا تو صرف وہی جوابدہ ہوگا اور اسی کا ٹرائل ہونا چاہیے پورے خاندان یا قبیلے کا نہیں! قاتل و مقتول کے خاندان اور سرکار کوشش کریں قاتل کو پکڑ کر عدالتی حکام کے حوالے کریں تاکہ وہ اپنی سزا پا لے۔ قبائلی تنازعات اسلام اور عقل کے خلاف ہیں اور یہ جاہلیت کی عادات میں سے ہے۔
اپنے خطاب کے ایک حصے میں مولانا عبدالحمید نے سیستان بلوچستان کے ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ آرگنائزیشن کے سربراہ کی موجودی پر کہا: تمام شہری خاص کر نوجوان حضرات زندگی چلانے کے لیے کوئی نہ کوئی فن سیکھیں۔ صوبے میں اچھے مواقع فراہم ہیں تاکہ لوگ کوئی فن سیکھ کر اپنا گزارہ کریں اور دوسروں کے پیٹ بھی پالیں۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

3 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago