اسرائیل بحریہ نے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والی امدادی کشتیوں کے قافلے کو کو روک کر اس کا رخ بندر گاہ کی جانب موڑ دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 4 کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر امدادی سامان اور رضا کاروں کو لے کر غزہ کی جانب جارہی تھی کہ اسے اسرائیلی بحریہ نے آگے جانے سے روک دیا جب کہ 3 کشتیوں کو تو واپس بھیج دیا گیا اور ایک کو صیہونی بحریہ اپنے ساتھ اشدد پورٹ کی جانب لے گئی ۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشتیوں کو کئی بار وارننگ دی گئی کہ وہ اپنا راستہ تبدیل کرلیں کیوں کہ یہاں آنے پر پابندی ہے لیکن کشتی کے پر سوارافراد نے وارننگ کو مسترد کردیا جس پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ فوج کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ فرانسیسی کشتی ہے اور اسے فریڈیم فلوٹیلا 3 کا نام دیا گیا ہے۔
دوسری جانب فریڈیم فلوٹیلا کے منتظیمین کا کہنا تھا کہ ایک امدادی کشتی ہے جس پر طبی آلات اور سولر پینل کے ساتھ مختلف ممالک کے 18 امدادی کارکن سوار ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا کہ کشتی کا غزہ لے جانے کا مقصد اسرائیل کی جانب سے بحری راستے پر لگائی گئی ظالمانہ پابندی کے خلاف احتجاج کرنا تھا ۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…