Egyptian cleric Sheik Youssef el-Qaradawi speaks to the crowd as he leads Friday prayers in Tahrir Square in Cairo, Egypt, Friday Feb. 18, 2011. Tens of thousands of flag-waving Egyptians packed into Tahrir Square for a day of prayer and celebration Friday to mark the fall of Hosni Mubarak a week ago and to maintain pressure on the new military rulers to steer the country toward democratic reforms.(AP Photo/Khalil Hamra)
عالمی شہرت یافتہ عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے مصر کی ایک عدالت کی جانب سے خود کو ،برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے ایک سو پانچ کارکنان کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
علامہ یوسف قرضاوی نے اتوار کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے عدالت کے حکم کو ”نان سینس” اور اسلامی شریعت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ ”اس طرح کے احکامات کی کوئی اہمیت نہیں اور ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ اللہ کے فرامین کی خلاف ورزی ہیں، یہ عوامی قانون کے بھی خلاف ہیں اور کوئی بھی انھیں قبول نہیں کرے گا”۔
مصری عدالت نے علامہ قرضاوی، ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان کے دوسرے کارکنان کو سنہ 2011ء کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران دارالحکومت قاہرہ کے شمال میں واقع ایک جیل کو توڑنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔علامہ صاحب نے اس واقعے میں اپنے کسی قسم کے کردار کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جب اس جیل کو توڑا گیا تھا تو اس وقت وہ قطر میں مقیم تھے۔
علامہ یوسف قرضاوی مصری ہیں،انھیں مصر کی کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کا روحانی قائد سمجھا جاتا ہے۔وہ گذشتہ کئی عشروں سے قطر میں مقیم ہیں۔ان کے لیکچرز اور جمعہ کے خطبات الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل پر نشر کیے جاتے رہے ہیں۔وہ مصر کے موجودہ صدرعبدالفتاح السیسی کے سخت ناقد ہیں اور ان کی تنقید کی وجہ سے ہی قطر اور دوسرے خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ”بدعنوانیوں اور ناانصافیوں کے خلاف بغاوت لوگوں کا حق ہے۔میں اب بھی لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ بغاوت کردیں”۔واضح رہے کہ علامہ قرضاوی کی عبدالفتاح السیسی پر تنقید کے بعد ان کے جمعہ کے خطبات ٹیلی ویژن سے نشر کرنے پر پابندی عاید کردی گئی تھی لیکن انھوں نے مصری صدر پر اپنی تنقید کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔سعودی عرب نے اخوان المسلمون کو دہشت گردی قرار دے رکھا ہے اور اس نے صدر السیسی کی حکومت کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اربوں ڈالرز کی امداد دی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…