سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ مذہبی مدرسے ملک بھر میں تقریباً پچاس لاکھ طلباء و طالبات کو مفت تعلیم فراہم کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مدرسوں کے خلاف کسی طرح کی بھی کارروائی سے ملک میں منفی اثر پڑے گا، اس لیے کہ پہلے ہی ملک کا تعلیمی ڈھانچہ ناقص بنیادوں پر کھڑا ہے۔
’تحفظِ دینی مدارس کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ملک بھر میں چھ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد جو مدرسوں کے خلاف کارروائی کی باتیں کررہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ اس طرح کی کارروائی سے ملک کے تعلیمی ڈھانچے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے ڈپٹی چیئرمین نے مدرسوں کے خلاف پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے ناصرف مذہبی تعلیم بلکہ جدید تعلیم بھی فراہم کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ مدرسوں کے مخالف ہیں، ہو اس نظام کا متبادل نہیں پیش کرسکتے، جس کے ذریعے طلباء کی اس قدر بڑی تعداد کو مفت تعلیم فراہم کی جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کے خلاف سازش کی پوری قوت کےساتھ مزاحمت کی جائے گی۔
مولانا حیدری نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے مسائل پر وفاقی حکومت کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی تھی۔
جمعیت علمائے اسلام فضل کے صوبائی سربراہ مولانا فیض محمد، جنرل سیکریٹری سکندر خان اور جے یو آئی ایف سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا ارشد محمود سومرو نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔
ڈان نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…