بھارت کے شہر لکھنؤ کے ایک اسکول میں حجاب پہننے پر طالبہ کو کلاس سے نکال دیا گیا، شدید تنقید کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی۔
لکھنؤ کے سینٹ جوزف انٹر کالج میں نویں کلاس کی طالبہ فرحین فاطمہ کو کلاس میں بیٹھنے سے منع کردیا گیا تھا کیونکہ اس نے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہن رکھا تھا۔ سینیٹ جوزف انٹرکالج کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل اگروال کے مطابق اسکول کا ایک ڈریس کوڈ ہے، اگر کوئی مذہبی لباس پہننا چاہتا ہے تو اسے مدرسے میں یا اس طرح کے کسی اسکول میں داخلہ لینا چاہیے۔ انیل اگروال کے مطابق فرحین اور ان کے والدین کواسکول کے ڈریس کوڈ کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھاتاہم فرحین اور ان کی والدہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ فرحین کی والدہ وقار فاطمہ نے کہاکہ داخلے کے پورے عمل کے دوران فرحین حجاب پہنے ہوئے تھیں۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…