بھارت کے شہر لکھنؤ کے ایک اسکول میں حجاب پہننے پر طالبہ کو کلاس سے نکال دیا گیا، شدید تنقید کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی۔
لکھنؤ کے سینٹ جوزف انٹر کالج میں نویں کلاس کی طالبہ فرحین فاطمہ کو کلاس میں بیٹھنے سے منع کردیا گیا تھا کیونکہ اس نے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہن رکھا تھا۔ سینیٹ جوزف انٹرکالج کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل اگروال کے مطابق اسکول کا ایک ڈریس کوڈ ہے، اگر کوئی مذہبی لباس پہننا چاہتا ہے تو اسے مدرسے میں یا اس طرح کے کسی اسکول میں داخلہ لینا چاہیے۔ انیل اگروال کے مطابق فرحین اور ان کے والدین کواسکول کے ڈریس کوڈ کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھاتاہم فرحین اور ان کی والدہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ فرحین کی والدہ وقار فاطمہ نے کہاکہ داخلے کے پورے عمل کے دوران فرحین حجاب پہنے ہوئے تھیں۔
ایکسپریس نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…