بھارت کے شہر لکھنؤ کے ایک اسکول میں حجاب پہننے پر طالبہ کو کلاس سے نکال دیا گیا، شدید تنقید کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی۔
لکھنؤ کے سینٹ جوزف انٹر کالج میں نویں کلاس کی طالبہ فرحین فاطمہ کو کلاس میں بیٹھنے سے منع کردیا گیا تھا کیونکہ اس نے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہن رکھا تھا۔ سینیٹ جوزف انٹرکالج کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل اگروال کے مطابق اسکول کا ایک ڈریس کوڈ ہے، اگر کوئی مذہبی لباس پہننا چاہتا ہے تو اسے مدرسے میں یا اس طرح کے کسی اسکول میں داخلہ لینا چاہیے۔ انیل اگروال کے مطابق فرحین اور ان کے والدین کواسکول کے ڈریس کوڈ کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھاتاہم فرحین اور ان کی والدہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ فرحین کی والدہ وقار فاطمہ نے کہاکہ داخلے کے پورے عمل کے دوران فرحین حجاب پہنے ہوئے تھیں۔
ایکسپریس نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید