Categories: بيانات

کوئی بھی مرشد صحابہ کرام جیسے مخلص وقابل شاگرد پیش نہیں کرسکتا

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں صحابہ کرام کی سچائی و اخلاص پر زور دیتے ہوئے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص، لائق اور مہذب شاگرد یاد کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے سترہ اپریل دوہزار پندرہ (ستائیس جمادی الثانی) کے خطبہ جمعے کا آغاز قرآنی آیت: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ»، (اے ایمان والو! الله سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو) کی تلاوت سے کیا۔
صحابہ کرام کی قربانیوں اور غزوہ تبوک کی سختیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: غزوہ تبوک میں اسلامی لشکر کو ایک طاقتور رومی فوج کا سامنا کرنا تھا۔ اس کا سفر لمبا تھا اور دوسری طرف سخت گرمی بھی تھی۔ تعداد و آلات کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کے پاس کمی تھی۔ مدینہ میں کھجور کی فصل کاٹنے کا وقت بھی آپہنچا تھا۔ ایسے میں جہاد کے لیے نکلنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی قربانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: تمام تر مشکلات کے باوجود صحابہ کرام نے غزوہ کی تیاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا؛ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بڑی قربانی دی اور کل تیس سو اونٹ اللہ کی راہ میں صدقہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی جائیداد کا آدھا حصہ لادیا جبکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے گھر کا صفایا کرکے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ اس دن فاروق اعظم کو معلوم ہوا وہ صدیق اکبر کا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے خطیب جمعہ زاہدان نے کہا: نبی کریم ﷺ کے تمام مخلص صحابہ کرام نے جہاد میں حصہ لیا؛ تبوک کے غزوے سے صرف چار صحابہ پیچھے رہ گئے جن میں سے ایک نے مسجد کے ستون سے خود کو باندھ دیا اور اس کی توبہ جلد قبول ہوگئی۔ لیکن تین اور صحابہ کرام کا بحکم الہی بائیکاٹ کیاگیاجن کی داستاں سورہ توبہ میں مذکور ہے اور احادیث میں تفصیل کے ساتھ ان کا واقعہ موجود ہے۔ پچاس دنوں کے بعد ان کی توبہ قبول ہوگئی جو سچی توبہ تھی۔ حضرت کعب کہتے ہیں مدینہ میں خود کو منافقوں کے درمیان پاکر ہمیں برا محسوس ہوتا تھا۔
سورت التوبہ کی آیت 119کی تشریح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: مذکورہ آیت میں حکم ہے اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو جن کے اعمال، کردار اور عقائد ان کی سچائی ثابت کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے ہی سچے، وفاشعار اور حقیقی صادقین تھے۔ ہمیں اپنے دوستوں کی فہرست دیکھنی چاہیے کہ ہمارے اردگرد کس طرح کے لوگوں کا مجمع ہے؛ اگر وہ کاذبین ہیں جن کے اعمال و کردار اور عقائد میں خرابی ہے تو ہمیں ان کی صحبت سے گریز کرنا چاہیے اور پھر ہمیں امین و صادق لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔
صحابہ کرام کی سچائی و خلوص پر زور دیتے ہوئے ممتاز ایرانی سنی عالم دین نے کہا: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی کے موقع پر آپ ﷺ کے بستر پر لیٹے اور امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچایا اور جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سفرِ ہجرت میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور غارثور میں سختیاں جھیل رہے تھے تو انہیں معلوم نہ تھا ایک دن وہ خلیفہ بن جائیں گے اور ان کی کوئی حکومت تشکیل پائے گی یا اس سے قبل کوئی دشمن انہیں شہید کرڈالے گا۔ ان کا واحد مقصد اللہ تعالی کی رضامندی تھی۔ درست عقیدہ یہی ہے کہ پوری تاریخ میں کوئی بھی مرشد صحابہ کرام جیسے مخلص ، مہذب، قابل اور قابل تقلید شاگردکی تربیت نہیں کرسکا۔

حضرت ابوبکر صدیق خاتم الانبیا ﷺ کے ’بھائی و ساتھی‘
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یوم وفات ( بائیس جمادی الثانی) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کے بعض فضائل کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا: خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں منبر پر تشریف لے کر فرمایا اگر میں اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا خلیل چن لیتا تو وہ ضرور ابوبکر ہوتا لیکن اسلامی بھائی چارہ اور محبت ہے اور وہ میرے ساتھی و بھائی ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس شخص نے میرے ساتھ اچھائی و بھلائی کا معاملہ کیا تھا میںنے اس کے احسان کا بدلہ ادا کیا لیکن میں اس شخص (ابوبکر) کے احسان کا عوض نہ دے سکا۔ اسی طرح وصال سے پہلے آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا مسلمانوں کو نماز پڑھائے، حتی کہ عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہما پر غصے کا اظہار کیا جب انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے مشورت دی۔ یہ ہمارے نزدیک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل کی دلیل ہے۔
مولانا عبدالحمید نے دربارنبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام پر اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا: کسی دن حضرات ابوبکر و عمر کے درمیان کسی مسئلے پر جھگڑا ہوا، حضرت ابوبکر نے کوئی سخت لفظ بول دیا اور پھر نادم ہوئے اور معافی بھی چاہی، لیکن حضرت عمر خاموش رہے۔ نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو بلاکر فرمایا: ابوبکر نے آپ سے معافی مانگی ہے، کیوں اسے معاف نہیں کیا؟ جس دن تم مجھے جھٹلارہے تھے اس دن ابوبکر نے میری تصدیق کی اور قربانی دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب صحابہ سے محبت کرتے تھے اور ان کا احترام فرماتے تھے۔
اپنے خطاب کا یہ حصہ ختم کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی کو دوستی کا دعوی عمل کے بغیر پسند نہیں ہے۔ اللہ تعالی سچائی چاہتاہے۔ ہمیں ان عظیم ہستیوں کی سیرت اپنی زندگی میں لانی چاہیے تاکہ ہم اللہ کے محبوب بن جائیں۔

ہمارے دینی مدارس عوامی چندوں پر انحصار کرتے ہیں
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں دینی مدارس کے مسائل و مالی مشکلات پر اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا: ملک میں معاشی پابندیوں کی وجہ سے حالات کافی خراب ہوچکے ہیں اور بازار میں رونق نہیں ہے۔ دینی مدارس کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
انہوں نے کہا: عوام کو چاہیے اپنی حدتک ان مدارس سے تعاون کریں لیکن مدارس کے ساتھ مالی معاونت مخصوص لوگوں کی اجارہ داری میں نہیں ہونی چاہیے۔ اگر وہ مقروض ہوجائیں تو مدارس کیا کریں؟ لہذا اس کارخیر میں سب کو حصہ لینا چاہیے۔ مدارس اسی معمولی چندے پر اکتفا کرکے اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ چندہ بھی دریغ کیاگیا تو دین کا کام مختل ہوجائے گا۔

مولانا بدری کی والدہ انتہائی نیک سیرت اور بہادر خاتون تھیں
خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مولانا عبدالغنی بدری، ناظم تعلیمات دارالعلوم زاہدان و استاذ الحدیث جامعہ ہذا، کی والدہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مولانا بدری کی والدہ واقعی ایک نیک سیرت اور بہادر خاتون تھیں جو ہم سب کے لیے نیک دعائیں کرتی تھیں۔ ان کی تربیت کا اثر ہے کہ ہم ان کی اولاد میں عالم و حافظ اورسکول استاذ و تعلیم یافتہ حضرات کو دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرماکر علو درجات نصیب فرمائے۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago