حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تہذیبی اور تمدنی تعلیمات و ہدایت میں اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ آپ نے لوگوں کے اذہان و قلوب میں خدائے وحدہ لاشریک کی وحدانیت و حقانیت کا عقیدہ راسخ کرکے انہیں احترام آدمیت اور تکریم انسانیت کے اعلیٰ مقام سے آشنا کیا۔
اللہ رب العزت نے وجہ تخلیق کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو اس کائنات ارضی میں اپنی ربوبیت کا نشان اور اپنی معبودیت کی دلیل بناکر مبعوث فرمایا تاکہ جن و انس آپ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور اس کی بندگی اور اس کی عبادت کی طرف مائل ہوں جس کے لئے انہیں اس جہاں میں ان کو پیدا کیاگیا ہے۔
اللہ جل مجدہ‘ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جلال و جمال اور صفات و کمالات کا اس طرح مظہر اتم بناکر بھیجا کہ آپ کا ذکر جمیل اپنے ذکرِ عظیم کے ساتھ شامل کرلیا اور اس کو وہ بلندی و رفعت عطا فرمائی جو کائنات میں کسی کے ذکر کو نہ ملی اورنہ ملے گی ۔ ’’سورہ الم نشرح میں ورفعنا لک ذکرک یعنی اے محبوب ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند فرمادیا‘‘۔
اس درخشاں حقیقت سے کون ذی علم و شعور انکار کرسکتاہے کہ حضور معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے قبل انسانیت کے ساتھ جو کھیل کھیلا جارہا تھا وہ کتنا بہیمانہ و سفاکانہ تھا آپ کی بعثت مبارکہ کا اولین مقصد فضائل اخلاق اور اعمال حسنہ کی تعلیمات تھا۔ تمام اعلیٰ اخلاقی اقدارجن میں صداقت وعدالت امانت و دیانت ، صبرو تحمل ، عفوو درگزر ، عد ل و احسان ، سخاوت و شجاعت ،صبرو استقلال،انسانی حقوق کی امور و اسرار کی تعلیم ،انسانوں کے ساتھ ہمدردی ،خیرخواہی، صلہ رحمی ،احسان و بھلائی اور رواداری جیسی درخشاں و جاوید تعلیم شامل ہیں۔
آپ نے مسلمانوں کو مسلمان کا بھائی قرار دیا اور فرمایا کہ نہ اس پر ظلم کرے ،نہ اُسے رسوا کرے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھے۔ مختصراً یہ کہ وہ کون ساعمل خیر ہے جس کا درس معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا۔دوسری طرف نے ہر اس سفلی اور رذیل عمل سے روکا جو انسان کو درندگی اور بربریت کی راہ پر ڈالتاہے۔ آپ نے تبسم ریز اشاروں سے سسکتی انسانیت کو حیات بخشی ۔اپنی جوامع الکلامی سے دنیا کے مظلوموں اور مجبوروں کو گویائی کی قوت عطا فرمائی ،آپ نے وحشیوں کو انسانوں کی طرح جینے کا طریقہ و سلیقہ سکھایا اور انسانوں کے اندر تزکیہ نفس کے ذریعہ ملکوتی صفات پیداکرکے رشک ملائک بنادیا آپ معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و الا صفات اور سیرت مطہرہ کا جس زاوئے اور جس رُخ سے بھی مطالعہ کریں ، خواہ میدانِ جہاد ہو یا میدانِ تبلیغ و ارشاد خواہ معاملات روزگار ہوں یا مسائل عبادات ،خواہ عائلی معاملات ہوں یا حکومت کاکاروبار ، خواہ دین کی بات ہو یادنیاوی معمولات ،آپ ہرچھوٹے سے چھوٹے قضیے اور بڑے سے بڑے معاملے میں کامل رہنمائی پائیں گے، شرط یہ ہے کہ ہم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو سمیم قلب سے اپناآقا و مولیٰ تسلیم کرلیں۔ پھر اس کے بعد کسی نظام یا ’’ازم‘‘ کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انسانیت کے ہر دکھ کا علاج اور ہردرد کا درماں معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’نسخہ کیمیا‘‘ اور ان کے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کی پیروی میں ہے۔ ان سے نسبت عشق قوی سے قوی تر کیجئے ، دنیا و آخرت سنوارئیے ،راحت و سکون حاصل کیجئے فلاح دارین اپنا مقدر بنائیے ۔ دنیا وآخرت کی کونسی دولت ہے جو اس شہنشاہِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں ، جسم و جان کی کونسی بیماری ہے جس کا علاج اس حکیم کائنات اور معلم علم و حکمت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں، سچ فرمایا ہے کسی عاشق صادق نے :
مالک کونین ہیں گوپاس رکھتے نہیں
دوجہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
آج عالم اسلام ، خواہ عجم ہو یاعرب و رسوائی کے ایک اذیت ناک دور سے گذررہاے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس مرکزی نقطہ نظر سے ہٹ گئے ہیں جو ’’صراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم‘‘ کے لئے مشعل راہ تھااور جس کو اختیار کرکے ہم جذبۂ جہاد سے سرشار ایک ایسی متحد ہ قوت بن گئے تھے جس سے یہود ونصاریٰ اوردیگر باطل قوتوں کے دل دہل جاتے تھے ۔ وہ مرکزی نقطہ سیدعالم ،معلم علم و حکمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے رشتۂ وارفتگی و شیفتگی استوار کرنے اور اوران کے محبوبوں کے نقوش قدم کو چراغ راہ بنانے کا تھا۔یہودو و نصاریٰ کے سوچے سمجھے منصوبے اور سازش کے تحت آج ہمارے دلوں سے ’’محبت رسول‘‘ کی وہ متاع عزیز چھین لی گئی ہے جس کی بدولت کڑوروں مسلمان کی عظیم جماعت آج کی گروہ بندیوں کا شکار ہوکر اپنی اجتماعیت کی قوت و طاقت گنوابیٹھی ہے۔ مسلمانوں کی صفوں میں ایسے افراد ابھارے یا داخل کئے گئے جنہوں نے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کو زیر بحث لاکر آپ کی عظمت اور مقام کو مجروح کرنے کی ناپاک جسارت کی تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے آپ کی عظمت اور آپ کی ذات قدسیہ سے بے پناہ محبت زائل ہوجائے اور صہیونی و صہیونیت نواز طاقتیں مسلمانوں کا عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی استحصال کرسکیں۔اس وقت اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو متحد کیاجائے آپس میں وداد و محبت اوراتفاق کوفروغ دیاجائے ۔ اس کی صورت اس کے علاوہ اور کوئی نہیں کہ ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عام کیاجائے ۔ محافل میلاد کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیاجائے ۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ مسلم نوجوانوں کے دلوں میں نبی رحمت ، معلم علم و حکمت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و وفاداری کا جذبہ بیدار ہوگا اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کا شوق پیداہوگا۔
ان تمام تر حقائق کی درخشاں روشنی میں اب یہ بات ظاہر و عیاں ہوجاتی ہے کہ مذہب اسلام ہی دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو بندوں کے حقوق و احترام کی پاسداری اور پاسبانی کرتاہے اور خیر خواہی ، ہمدردی اور تکریم انسانیت کا داعی و ترجمان ہے، اب بھی اگرکوئی متعصب و ہٹ دھرم اس مذہب کو دہشت گرد ، فتنہ پرور اور جہاد کا علمبردار کہے تو سمجھئے کہ صحیح معنی میں اس نے اسلام کی پاکیزہ تعلیمات و ہدایات کا مطالعہ ہی نہیں کیا ہے۔
دینِ اسلام کے جامع و مانع اصول و ضوابط کے نفاذ و عمل میں حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت اور ساری انسانیت کے ساتھ بے شمار غمخواریاں نظرآتی ہیں ۔یقینا حضرت سیدنا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ساری انسانیت کے خیرخواہ اور خیر اندیش تھے جبھی تو آپ نے ہر شخص کے حقوق متعین فرماکر سب کو احترام وتکریم انسانیت کا درس دیا۔وہ کونسا شعبۂ زندگی ہے جس کے بارے میں آپ نے اپنے حکیمانہ اقوال سے راہ نہ دکھائی ہو آپ معلمِ ہدایت ہیں ۔ آپ نے ہدایت الہٰی کے نور سے زندگی کی تاریک راہوں کو درخشاں زندہ و جاوید کیا اور بھٹکے ہوئوں کو صراط مستقیم دکھائی۔
یہ آپ ہی کی معلمانہ صلاحیتوں کا کرشمہ ہے کہ آپ نے بربریت ، جہالت ، تعصب ، تفاخر اور ہوس اقتدار کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں غرق دنیا کو بقعہ نور بنادیا۔ دنیا کے ہر حصے میں طبقات کا فرق تھا لیکن آپ ہی وہ معلم مساوات تھے جس نے :
بشارت دی مساوات بشر کی نوع انسان کی
آپ کے اس درس مساوات نے ببانگ دہل دنیا کو بتادیا کہ عربی و عجمی ، کالے و گورے اور آقا و غلام میں کوئی تمیز روا نہیں۔اگر کوئی امتیاز ہے تو وہ تقویٰ و طہارت اور علم و حکمت کا ہے۔ آپ کے اس اعلان کا نتیجہ یہ نکلا کہ:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودو ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
حشمت امجدی پوکھریروی
بصیرت فیچرس
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…