لیبیا کے مشرقی شہر طبرق میں ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ملک کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان کے ہیڈکوارٹرز کے باہر دھماکے سے اڑا دیا ہے۔
العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق بم دھماکا السلام ہوٹل کے داخلی دروازے کے نزدیک ہوا ہے،اسی ہوٹل کے ایک ہال میں پارلیمان کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ایک رکن پارلیمان ابو بکر بائرہ نے بتایا ہے کہ دھماکے میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔
طبرق میں پارلیمان پر اب تک یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔اس سے پہلے نومبر میں اس شہر میں ایک بم دھماکا ہوا تھا لیکن اس حملے میں اسمبلی کو ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔اس شہر میں ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت سکیورٹی بہتر ہے لیکن اس کے باوجود حکومت مخالف وہاں بھی بم دھماکے کررہے ہیں۔
مصر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں لیبیا کی منتخب پارلیمان پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کی ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔لیبی حکام نے اس سے پہلے درنہ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند جنگجوؤں پر بم دھماکے کا الزام عاید کیا تھا۔
واضح رہے کہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان اس وقت مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق میں اپنے اجلاس منعقد کررہی ہے اور وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت بھی اسی شہر میں کام کررہی ہے جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اس کے متوازی اسلام پسندوں کی حکومت قائم ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…