خیال رہے کہ الوفاء قصبہ الرمادی کے مغرب میں 45 کلو میٹر دور اہم ترین مقام ہے۔ اس کے زیادہ تر علاقے پر دولت اسلامی کے جنگجوئوں نے جمعہ کو ایک خون ریز حملے کے بعد قبضہ کرلیا تھا۔
الوفاء قصبے پرکنٹرول کے بعد ’داعش‘ مغربی الرمادی کے مزید دو اہم دیہات ھیت اور کبیسہ پرقبضے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان قصبوں پرقبضے کے لیے دولت اسلامی اور عراقی فورسز کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے جنگ جاری تھی۔
الوفاء پرداعش کے کنٹرول کے بعد حکومت کے لیے وہاں کے سنی قبائل کو دہشت گردوں کے خلاف مسلح کرنے کی مہم پربھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
الوفاء کے بلدیہ کونسل کے چیئرمین حسین کسارنے ’’رائیٹرز‘‘ کو بتایا کہ داعشی جنگجو پرسوں جمعہ کے روز سے پولیس کے ساتھ نبرد آزما ہیں لیکن اسلحہ کی قلت کے باعث پولیس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پولیس میں شکست خوردگی کی بنیادی وجہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بروقت پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو کمک نہ ملنا ہے۔
حسین کسار کا کہنا تھا کہ مقامی قبائل اور پولیس نے مل کر داعشی دہشت گردوں کو الرملی چیک پوسٹ اور اس کے قرب وجوار میں روکنے کی کوشش کی مگر ہمیں اس وقت پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب دہشت گردوں نے رات کی تاریکی میں حملہ کردیا۔ اس حملے کے بعد پولیس اور دیگر قبائلی جنگجوئوں کو قریب ہی ایک دوسرے ہیڈ کواٹر کی طرف جانا پڑا۔
الوفاءبلدیہ کونسل کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ’’داعش‘‘ کی جانب سے پولیس کے کئی مراکز کا محاصرہ کرلیا گیا ہے اگر حکومت کی جانب سے ان کی بروقت مدد نہ کی گئی تو بڑے پیمانے پر خون خرابے کااندیشہ ہے۔
مقامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ داعش کے شدت پسندوں نے البغدادی قصبے سے اغواء کیے گئے اکیس سنی قبائلی جنگجوئوں کو بھی قتل کردیا ہے۔
خیال رہے کہ داعش نے البغدادی قصبے کا محاصرہ گذشتہ اکتوبر سے کررکھا ہے۔ داعشی عسکریت پسند گوریلا کارروائیوں میں عراقی پولیس اہلکاروں اور سنی جنگجوئوں کو یرغمال بناتے رہے ہیں۔ حال ہی میں اکیس یرغمالی قبائلی کارکنوں کو گولیاں مار کرقتل کے بعد کبیسہ قصبے کے ایک کھلے پارک میں پھینک دیا گیا تھا۔
عراق: داعش نے ہیلی کاپٹر مار گرایا، دونوں پائلٹ ہلاک
جس کا صاف مطلب ہے کہ داعش آئندہ دنوں امریکی قیادت میں جاری فضائی کارروائیوں میں بروئے کار جنگی طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔
اب تک داعش کی پیش قدمی روکنے میں عالمی اتحادیوں کی یہ فضائی کارروائیاں ہی کسی حد تک کامیاب رہیں، جو ماہ ستمبر سے مختلف ملکوں کی طرف سے جاری ہیں جبکہ امریکا نے ماہ اگست میں ان کا آغاز کیا تھا۔
داعش کی طرف سے ہیلی کاپٹر کو شیعہ کمیونٹی کے لیے مقدس شہر سمارا میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے سمارا دارالحکومت بغداد کے شمال میں 95 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
وزارت دفاع کے ایک سینئر ذمہ دار کے مطابق سنی عسکریت پسندوں نے راکٹ لانچر داغ کر ای ۔ سی 635 ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ فوجی ذرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے تاہم دونوں حکام نے اپنا نام ظاہر کرنے سے معذرت کی ہے۔
ای سی 635 طرز کے ہیلی کاپٹر کو ائیر بس ہیلی کاپٹر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ہیلی کاپٹر ٹرانسپورٹیشن کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ عسکریت پسندوں نے اس سے پہلے ماہ اکتوبر میں بیجی شہر میں بھی دو ہیلی کاپٹر گرائے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…