سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق آیت محمد آخوند جامعہ ربانیہ چنارلی کے استاذ اور ترکمن صحرا کی احناف مجلس فقہی کے سینئر رکن تھے۔ آپ کا شمار ممتاز ترکمن علمائے کرام، عبدالقادر داغستانی اور ان کے چھوٹے بھائی ابراہیم داغستانی، کے مایہ ناز تلامذہ میں ہوتاتھا۔
آخوند داوودی رحمہ اللہ فراغت کے بعد آخری دم تک جامعہ ربانیہ چنارلی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور چنارلی قریہ کے خطیب بھی رہے۔ مرحوم نے ستر برس عمر پانے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔
اطلاعات کے مطابق آیت محمد داوودی کی نماز جنازہ جامعہ ربانیہ چنارلی میں ادا کی گئی جہاں متعدد علمائے کرام اور مقامی افراد نے شرکت کی جن میں شیخ التفسیر مولانا محمدحسین گرگیج کا نام قابل ذکر ہے۔
سنی آن لائن ٹیم نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پس ماندگان اور تلامذہ و متعلقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…