سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کے مطابق آیت محمد آخوند جامعہ ربانیہ چنارلی کے استاذ اور ترکمن صحرا کی احناف مجلس فقہی کے سینئر رکن تھے۔ آپ کا شمار ممتاز ترکمن علمائے کرام، عبدالقادر داغستانی اور ان کے چھوٹے بھائی ابراہیم داغستانی، کے مایہ ناز تلامذہ میں ہوتاتھا۔
آخوند داوودی رحمہ اللہ فراغت کے بعد آخری دم تک جامعہ ربانیہ چنارلی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور چنارلی قریہ کے خطیب بھی رہے۔ مرحوم نے ستر برس عمر پانے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔
اطلاعات کے مطابق آیت محمد داوودی کی نماز جنازہ جامعہ ربانیہ چنارلی میں ادا کی گئی جہاں متعدد علمائے کرام اور مقامی افراد نے شرکت کی جن میں شیخ التفسیر مولانا محمدحسین گرگیج کا نام قابل ذکر ہے۔
سنی آن لائن ٹیم نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پس ماندگان اور تلامذہ و متعلقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار