مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’’کلب برائے اسیران‘‘ کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر میں گرفتار کئے گئے بعض افراد کو کڑی شرائط کے تحت رہا کیا گیا ہے۔ بعض کو رہائی کے بعد گھروں میں نظربند کیا گیا، کچھ کو علاقہ بدر کیا گیا اور بعض سے جرمانوں کی آڑ میں بھاری رقوم وصول کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کا الخلیل شہر گرفتاریوں کے حوالے سے پہلے نمبر پر رہا، جہاں سے دو خواتین آمال السعدہ اور ھالہ ابو سل سمیت 120 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ رام اللہ سے 43، بیت لحم سے 34، نابلس سے 30، جنین سے 26، طولکرم سے 19، طوباس سے 12، اریحا سے چھ، قلقیلیہ سے آٹھ اور سلفیت سے پانچ شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں کی جانب سے ایک تازہ کارروائی مین 13 فلسطینیوں کو گذشتہ شب حراست میں لیا گیا۔ ان میں چھ کا تعلق الخلیل شہر سے بتایا جاتا ہے۔ محروسین میں 16 سالہ عمادالدین عصافرہ سمیت کئی دوسرے کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…