مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’’کلب برائے اسیران‘‘ کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر میں گرفتار کئے گئے بعض افراد کو کڑی شرائط کے تحت رہا کیا گیا ہے۔ بعض کو رہائی کے بعد گھروں میں نظربند کیا گیا، کچھ کو علاقہ بدر کیا گیا اور بعض سے جرمانوں کی آڑ میں بھاری رقوم وصول کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کا الخلیل شہر گرفتاریوں کے حوالے سے پہلے نمبر پر رہا، جہاں سے دو خواتین آمال السعدہ اور ھالہ ابو سل سمیت 120 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ رام اللہ سے 43، بیت لحم سے 34، نابلس سے 30، جنین سے 26، طولکرم سے 19، طوباس سے 12، اریحا سے چھ، قلقیلیہ سے آٹھ اور سلفیت سے پانچ شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں کی جانب سے ایک تازہ کارروائی مین 13 فلسطینیوں کو گذشتہ شب حراست میں لیا گیا۔ ان میں چھ کا تعلق الخلیل شہر سے بتایا جاتا ہے۔ محروسین میں 16 سالہ عمادالدین عصافرہ سمیت کئی دوسرے کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید