برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ملک میں بسنے والی کسی بھی کمیونٹی کے مقابلے میں مسلمانوں کے ساتھ نوکری کے حوالے سے امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اورانہیں تعصب کا نشانا بناتے ہوئے نوکری کرنے کے سب سے کم مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ برسٹل یونی ورسٹی میں تعینات شعبہ سماجیات کے سینئر پروفیسرز نبیل خطاب اور ران جانسٹن نے نیشنل اسٹیٹسٹک لیبر فورس سروے کے حاصل کردہ اعدادو شمار کے حوالے سے اپنی تحقیق میں کہا کہ برطانیہ میں مسلمانوں کو ملک میں بسنے والی دیگر 14 نسلی و مذہبی اقلیتوں کے مقابلے میں 75 فیصد کم نوکری کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں جب کہ مسلم خواتین کو عیسائی خواتین کے مقابلے میں65 فیصد کم نوکری کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔
نبیل خطاب کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرز عمل کے باعث اعلیٰ تعلیم یافتہ اورانتہائی قابل مسلمانوں کو بھی کمپنیوں کی جانب سے نظرانداز کیا جاتا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو اس سے برطانیہ میں بسنے والی دیگر برادریوں کے درمیان ہم آہنگی پرگہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
ایکسپریس نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…