انسانی آبادی میں بسنے والے بہت سے انسانوں کا ہم پر مختلف جہتوں سے احسان ہے لیکن والدین کے احسانات کو تمام پر فوقیت حاصل ہے اور قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں اسکے ساتھ حسن سلوک کے کئے جانے کاذکر ہے، ایک عظیم اور اہم احسان کا ذکر قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف انداز سے کیا ہے، اللہ فرماتا ہے،\”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا، اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا، اس کے حمل کا اور دودھ چھرانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے، یہاں تک کہ جب وہ پختگی اور چالیس کی عمر کو پہونچا تو کہنے لگا اے میرے پرور دگار توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر احسان کئے ہیں، اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جس سے تو خوش ہو جائے، اور میری اولاد کو بھی صالح بنا میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں (سورت الاحقاف 15)
اس آیت کریمہ میں اللہ نے ماں کی ان عظیم نعمتوں کا ذکر کیا ہے جس کے تصور سے انسان پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے یہی کیا کم مشقت کی بات ہے کہ ایک ماں 9/ ماہ تک حمل کے ایام تکلیفوں پر تکلیف برداشت کرتی ہے اور پیدائش کے وقت اور اس کے بعد تربیت و پرورش میں جن مشقتو ں کا سامنا ہوتا ہے وہ ایک ماں ہی محسو س کر سکتی ہے، اسلئے اللہ نے ماں باپ کے شکریہ کا حکم دیاہے، باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے\” اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو \”(النسا: 37) دوسری جگہ اللہ نے فرمایا \”اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو \”(العنکبوت 8)اور ایک جگہ اپنے شکریہ کے ساتھ والدین کے شکریہ ادا کئے جانے کا ذکر فرمایا \”ان اشکرلی ولوالدیک \”میرا شکریہ ادا کرو اور میرے ساتھ ماں باپ کا شکریہ ادا کرو ( لقمان 14) قرآن کریم کی ان آیتوں میں والدیں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر جس تاکید سے ملتا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں اور ایک جگہ اللہ نے فرمایا کہ تیرے رب نے حکم کر دیاکہ بجز اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو اور تم اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یادونوں کے دونوں بڑھا پے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو نہ ان کو جھڑکو اور ان سے محبت سے بات کرنا اور ان کے سامنے نرمی اور انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائے جیساکہ انہوں نے بچپن میں پالا پرورش کیا ہے ( بنی اسرائیل24)
اس آیت کریمہ میں والدین سے ’’اف ‘‘تک کہنے سے منع کیا ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اس سے اور زیادہ ہلکا جملہ ہوتا جو والدین کو تکلیف پہہچانے کا سبب ہوتا تو اللہ اس سے بھی روکتا،اس سے والدین کی عظمت و تقد س کا احسا س ہوتا ہے،
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقدس کے احترام کو سامنے رکھتے ہوئے ایک صحابی کو جہاد میں جانے سے ایسے موقعہ پر منع فرمایا جب کہ سرحد پر جانبازوں کا ہمیشہ انتظار ہوا کرتاتھا لیکن حضور نے جہاد میں جانے سے زیادہ والدین کی خدمت کو فوقیت دیا
حضرت معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہیکہ میرے والد جاہمہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے، اس سلسلہ میں آپ کے پاس مشورہ کے لئے حاضر ہوا ہوں آپ نے ان سے دریا فت فرمایا کہ کیا تمہاری ماں حیات سے ہے، جواب دیا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی ماں کی خدمت کرو کیونکہ ان کے قدموں کے نیچے جنت ہے ( نسائی ج 2/ ص52)
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی حکم عدولی اور نا فرمانی کو حرام قرار دیا ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر ماں کی نافرمانی کو حرام قرار دیا ہے (بخاری شریف ج 1/ ص 200/ مسلم شریف ج2/ ص75)ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتادوں صحابہ نے عرض کیا ضرور یارسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا (بخاری شریف حدیث نمبر 6521)
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی الہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش مکہ کے (حدیبیہ والے)معاہدہ کے زمانہ میں میری ماں جو مشرکانہ مذہب پر قائم تھیں سفر کر کے مدینہ میرے پاس آئیں تو میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ خدمت کے خواہاں ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرو ( بخاری ج 1/ ص357/ مسلم شریف ج2/ ص884)
ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے آپ نے تین مرتبہ فرمایا تیری ماں اور چوتھی مرتبہ فرمایا تیرا باپ ( بخاری: ج 2/ ص 882/ مسلم شریف: ج 2 ؍ ص: 322)
یہ اور اس طرح کی بے شمار روایتیں احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں لیکن درد کی بات یہ ہیکہ دنیا جتنی تیزی کے ساتھ ترقیات کے منازل طے کر رہی ہے اسی تیزی کے ساتھ اخلا قی تنزلی آتی جا رہی ہے ایک بین الاقوامی ادارہ انٹر نیشنل آف ریسرچ آن وایو لینس ( آئی آر سی وی) نے یہ انکشاف کیا ہے کہ سروے کے لئے جن چار ہزار قریب مردوں کا انتخاب کیا گیا تھا ان کی ساٹھ فیصد تعداد نے بلا تکلف اعتراف کیا کہ والدین کو قابو میں رکھنے کے لئے یا ان پر برتری کا رعب باقی رکھنے کے لئے وہ انہیں مارتے پیٹتے رہتے ہیں، یہ سروے رپورٹ اخلاقی قدروں کی گراوٹ ہر تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، اور خاص طور پر ہندوستانی تہذیب کے لئے افسوس کے ساتھ باعث عار بھی ہے، جس ملک کا ایک جوان شرون کمار جس کا ذکر بڑے اہتمام اور عقیدت کے ساتھ کیا جاتا ہے، جس نے اپنے کاندھے پر ایک بڑی ڈولی رکھ کر اس کے ایک پلڑے میں ماں اور دوسرے پلڑے میں باپ کو بٹھاکر تیرتھ یاترا کرائی تھی اور رام چندر جی جن کو برادران وطن بھگوان کا درجہ دیتے ہیں جنہوں نے اپنے والد کا بیوی سے کیا ہوا وعدہ نبھانے راج پاٹھ چھوڑ کر چودہ سال کا بنواس قبول کر لیا تھا نہایت افسوس کی بات ہے کہ اس ملک کی ماں اور باپ اپنے بچوں کے سامنے بے بسی کی زندگی گزارے اسلئے حسا س طبقہ کو اس سمت توجہ دینے کے ساتھ بیداری مہم کا بھی آغا ز کرنا چاہئے شاید ہم اپنی تحریک کے ذریعہ ماں کے آں سوؤں کو پو چھ سکیں۔
(مظفر احسن رحمانی، دارالعلوم سبیل الفلا جالے دربھنگہ بہارمیں استاذ ،جامع مسجد میں امام و خطیب اور مشہور صحافی)
(بصیرت فیچرس)
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…