چین کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق ان بائیس مشتبہ افراد کو سنکیانگ میں مختلف الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا ہے جن کو گزشتہ روز کھلی کچری کے دوران پانچ سے سولہ سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ ان افراد پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدوں پر رہتے ہوئے قوانین توڑنے اور مذہبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان تمام اماموں کوعہدوں سے برطرف کرتے ہوئے سزا سنائی گئی ہے۔ دیگر افرادپرنسلی نفرت پھیلانے، قوانین کو توڑنے کے لیے تو ہم پرستی پھیلانے اور انتشار پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چین نے سنگینانگ میں انتہاپسند گروپس کے خلاف کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے۔ سنکیانگ میں عوامی عدالت عام ہوتی جا رہی ہے جو کھلے اسٹیڈیم میں لگائی جاتی ہیں جس پر انسانی حقوق کے اداروں کی جانب شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔
اردو ٹائمز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…