چین کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق ان بائیس مشتبہ افراد کو سنکیانگ میں مختلف الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا ہے جن کو گزشتہ روز کھلی کچری کے دوران پانچ سے سولہ سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ ان افراد پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدوں پر رہتے ہوئے قوانین توڑنے اور مذہبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان تمام اماموں کوعہدوں سے برطرف کرتے ہوئے سزا سنائی گئی ہے۔ دیگر افرادپرنسلی نفرت پھیلانے، قوانین کو توڑنے کے لیے تو ہم پرستی پھیلانے اور انتشار پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چین نے سنگینانگ میں انتہاپسند گروپس کے خلاف کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے۔ سنکیانگ میں عوامی عدالت عام ہوتی جا رہی ہے جو کھلے اسٹیڈیم میں لگائی جاتی ہیں جس پر انسانی حقوق کے اداروں کی جانب شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔
اردو ٹائمز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…