اسرائیلی پولیس نے گرین لائن کے اندر واقع علاقوں میں دو ماہ قبل غزہ پر مسلط جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کو ہائی الرٹ کیا ہے۔
العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی قصبے کفر کنا میں پچھلے ایک روز سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب مقامی آبادی نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کےخلاف اسرائیلی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف شٹرڈائون ہڑتال کا اعلان کرنے کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔
اتوار کے روز کفر کنا اور بعض دوسرے مقامات پر اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے مابین آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ اندورن فلسطین کی مقامی سماجی تنظیموں اور تاجر برادری نے مزید 24 گھنٹے کے لیے کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیلی پولیس کو کفر کنا اور دوسرے علاقوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
درایں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کابینہ کے اجلاس کے بعد سیکیورٹی حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے دفاع میں سرگرم گروپوں کو اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزام میں خلاف قانون قرار دینے کے لیے لائحہ عمل مرتب کریں۔
خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے ’’المرابطون‘‘ کے نام سے قائم کی گئی ایک تنظیم سرگرم عمل ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس گروپ میں شامل افراد کو مسجد اقصیٰ میں موجود رہنے کے لیے ماہانہ معاوضہ مہیا کیا جاتا ہے۔
اتوار کے روز صہیونی کابینہ کےاجلاس میں بیت المقدس میں پرتشدد مظاہرے کرنے اور اسرائیلی فوج پر حملوں میں ملوث عرب شہریوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔ نیتن یاھو نے اس تجویز کی منظوری کا عندیہ دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے بیت المقدس میں حالیہ کشیدگی کی ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں پر عائد کی جو ان کے بقول انتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہیں۔
العربیہ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار