Categories: مشرق وسطی

صنعاء میں حوثیوں کی عسکریت پسندی کےخلاف مظاہرے

یمن میں اہل تشیع مسلک کے حوثی قبیلے سے تعلق رکھنے والے مسلح مظاہرین کا دارالحکومت صنعاء میں اہم سرکاری عمارتوں پر کا قبضہ برقرار ہے۔

دوسری جانب صنعاء اور دوسرے مختلف شہروں میں حوثیوں کی مسلح کارروائیوں کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں، جن میں حکومت سےمطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حوثیوں کو دارالحکومت سے نکال باہر کرنےکےلیے فوری اور موثراقدامات کرے۔
غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق صنعاء میں حکومت اور حوثیوں کے مابین مفاہمتی کوششوں کے باوجود کشیدگی برقرار ہے۔ حوثی قبیلے نے شہرکی اہم شاہراؤں پر اپنے مسلح عناصر کی تعداد میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
ادھر دارالحکومت صنعاء میں حوثی غنڈہ گردی کے خلاف ایک بڑی ریلی بھی نکالی گئی جس میں مقررین نے صدر عبد ربہ منصور ھادی سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی اداروں پرحوثیوں کا قبضہ ختم کرانے اور ملک میں حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے موثراقدامات کا حکم دیں۔ مقررین نے حوثیوں کی جانب سے شہر میں سرکاری اور نجی املاک کی توڑپھوڑ اور لوٹ مار کی بھی شدید مذمت کی۔ مظاہرے میں سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں‌ نے اعلان کیا کہ دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا کے نکالے جانے تک وہ پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
حوثی شدت پسندوں کےخلاف عوامی احتجاج میں شہری سخت مشتعل تھے۔ وہ جہاں حوثیوں کی مسلح کارروائیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے وہیں انہوں‌ نے حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت حوثی ملیشیا کو شہری علاقوں سے نکالنے لیے فوج اور پولیس کو قانونی کارروائی کی اجازت فراہم کرے۔
صنعاء میں اسی نوعیت کی ایک دوسری پیش رفت میں جامعہ صنعاء میں اساتذہ اور طلباء نے بھی حوثیوں کے مسلح حملے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔ جامعہ کے احاطے میں ہوئے ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اور ہرطرف حکومت کے بجائے حوثی شدت پسندوں کا راج دکھائی دیتا ہے۔
خیال رہے کہ یمن میں حوثی شدت پسندوں نے اگست کے آخری ہفتے میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے دارلحکومت صنعاء میں دھرنا دیا۔ حوثی ہرآنے والے دن اپنے مطالبات میں اضافہ کرتے چلے گئے۔ جس کے نتیجے میں حکومت نے پولیس کی مدد سے ان کے دھرنے ختم کرنے کی کوشش کی تاہم اقوام متحدہ کی مداخلت کے بعد حکومت اور حوثیوں میں مذاکرات شروع ہوئے۔ مذاکرات میں صدر عبد ربہ منصورھادی نے وزیراعظم کو سبکدوش کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی اضافی قیمت واپس لینے کے مطالبات تسلیم کرلیے تھے۔ اس کے بدلے میں حوثیوں نے دھرنے ختم کرنے پراتفاق کیا تھا لیکن حکومت سے معاہدہ ہونے کے باوجود حوثیوں کے مسلح جتھوں نے دارالحکومت کی اہم عمارات پرقبضہ کرلیا۔

 العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago