اقوام متحدہ و عالمی طاقتیں تشدد اور جنگوں کے خاتمے کے لیے قدم اٹھائیں

خطیب اہل سنت زاہدان نے مغربی طاقتوں کی جنگ اور دھمکی کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ’اقوام متحدہ اور دیگر سپرپاورز کہلانے والے‘ ملکوں سے مطالبہ کیا جنگ اور تشدد کے بجائے صلح اور امن کی راہ فراہم کرنے لیے قدم اٹھائیں۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے چھبیس ستمبر دوہزار چودہ کے خطبہ جمعے کے ایک حصے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: شدت پسندی اور انتہاپسندی واحد مسئلہ تھا جس کے بارے میں اکثر عالمی رہنماوں نے گفتگو کی۔ بعض ملکوں کے سربراہاں نے کھلی دھمکی کی زبان استعمال کی، امریکا جنگ اور مزید تشدد کے ذریعے انتہاپسندی کی بیخ کنی کے لیے عزم کا اظہار کررہاہے اور اس مقصد کے لیے کچھ ملکوں کو اتحادی کے طور پر ساتھ رکھاہے۔

انہوں نے مزیدکہا: افسوس کا مقام ہے کہ مذکورہ اجلاس میں کسی نے امن اور صلح کی بات کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور سب نے جنگ اورتشدد کو انتہاپسندی و دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دی۔

امریکی صدر باراک اوباما کی جنرل اسمبلی اقوام متحدہ میں خطاب پر تنقید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: امریکی صدر نے اپنے خطاب میں انتہاپسند گروہوں اور تنظیموں کو سرطانی دبے قرار دیا، لیکن وہ بھول گئے کہ سب سے بڑا کینسر، قابض اسرائیلی ریاست، کے بارے میں اظہار خیال کرے جس کی وجہ سے بہت سارے چھوٹے کینسر وجود میں آئے ہیں۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: جس طرح پہلے بھی اسی منبر سے کہا گیا ہے اور اب ایرانی صدر نے بھی اپنے خطاب میں زوردیا ہے، انتہاپسندی اور شدت پسندی کی اصل وجوہات سمجھنے اور انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک علت کا خاتمہ نہ کیاجائے، معلول سے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ظلم وجور اور انصاف کی فراہمی سے گریز شدت پسندی کی اصل وجوہات ہیں۔ نیز اسرائیل کی بربریت اور مغربی طاقتوں کی اس سے بے دریغ حمایت خطے میں فساد کی جڑ ہے۔ حال ہی میں جب اسرائیل نے پچاس دنوں میں دوہزار سے زائد افراد کو موت کی نیند سلایا اور ہزاروں افراد کو زخمی کردیا، عالمی برادری کیوں خاموش تماشائی بنی رہی؟ اسرائیل کو کیوں لگام نہیں لگایا گیا؟ دوسری طرف فلسطینیوں کے وطن اور دھرتی پر صہیونی ریاست کا قبضہ ہے اور ان کی جان ومال پر تعدی ہورہی ہے۔ ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی جارہی تاکہ فلسطین ایک آزاد اور مستقل ریاست بن جائے۔ اگر ایسا کیاگیا اور مسئلہ فلسطین حل ہوگیا، تو ضرور انتہاپسندی کی راہ روکنے میں سہولت ہوگی۔

ممتاز ایرانی سنی عالم دین نے کہا: جب پوری دنیا اسرائیلی ریاست کی مسلسل دراندازیوں اور جارحیت دیکھ رہی ہے، واضح ہے کہ سب لوگ برداشت نہیں کرسکتے اور بعض جوشیلے لوگ بندوق اٹھاکر لڑنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ہم انتہاپسندی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کے بھی خلاف ہیں کہ کچھ ممالک لڑائی اور زوربازو سے انتہاپسندی کا خاتمہ کرنا چاہیں اور اس مہم کے لیے بعض دیگر ممالک کو خواستہ ناخواستہ اپنے ساتھ ملائیں۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے مدعی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے انہوںنے کہا: اس سے پہلے کہ خطے میں انتہاپسندی اور شدت پسندی جڑ پکڑلے تم کہاں تھے؟ عراق میں جس کی حکومت بزوربازو اور عسکری حملے سے تم نے ختم کردیا، قومی حکومت بنانے کے بجائے عراقی قوم کو مزید تقسیم کردیا اور انہیں یکجا کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا خونی دشمن بنادیا۔ اسی وجہ سے دوسروں کو مداخلت کا موقع فراہم ہوگیا۔ اگر عراق اور شام میں شروع ہی سے مشکلات ومسائل کے حل پر توجہ دی جاتی تو آج یہ صورت حال دیکھنا نہ پڑتی۔

صہیونی ریاست کے امن یقینی بنانے کو خطے میں بدامنی پیدا کرنے کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے کہا: مشرق وسطی میں بدامنی پیدا کرکے عراق، مصر، لیبیا اور شام میں اسلامی بیداری کو درست رستے سے ہٹایاجارہاہے۔ یہ سب اس لیے کیاجارہاہے تاکہ اسرائیل کی سکیورٹی یقینی ہوجائے۔ ان قوتوں اور طاقتوں کی پالیسی یہی ہے کہ مسلمانوں کی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو اور وہ ایک دوسرے کو ماریں تاکہ اسرائیل امن سے رہے۔

مغربی ممالک کی جنگی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: لڑنے اور لڑانے کی پالیسی دنیا کے لیے خطرناک ہے؛ مسائل کا حل صلح کرانے اور قومی حکومتوں کی تشکیل میں ڈھونڈنا چاہیے۔ قوموں کے حقوق پر توجہ دینے اور سب کی بات سننے سے خطے میں بدامنی کا جن بوتل میں بند کیاجاسکتاہے۔ اقوام متحدہ اور ’سپرپاورز‘ ہونے کے دعویدار ممالک صلح اور امن کی راہ پر گامزن ہوجائیں۔ لڑائی اور تشدد ہی سے تشدد اور لڑائی کی بیخ کنی کوئی معقول بات نہیں ہے مگر بعض خاص صورتوں میں اس کا استعمال بجا ہوگا۔

تعلیم مادی وروحانی ترقی کی بنیاد ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں اہل سنت کے مرکزی اجتماع برائے جعمہ میں وزارت تعلیم کے صوبائی ڈائریکٹر کی موجودی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نئے تعلیمی سال کے آغازپر انہیں اور دیگر اساتذہ وطلبہ کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا: میری سمجھ کے مطابق وزارت تعلیم کے صوبائی ڈائریکٹر صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے کمربستہ ہیں۔ اس حوالے سے تمام لوگوں کو چاہیے اپنی توجہ بچوں کی تعلیم پر مرکوز کریں اور کوئی بچہ سکول سے محروم نہ ہو۔

تعلیم کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: تعلیم اور تربیت بشر کی تمام مادی اور روحانی ترقیوں کی بنیاد ہے۔لہذا ہمیں اگلی نسلوں کی خاطر محنت کرنی چاہیے۔ وزارت تعلیم جتنی بھی طاقت ور اور محنتی ہو، پھر بھی ماں باپ اور معاشرے کے دیگر افراد کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ لہذا سب اپنی ذمہ داریاں پوری کردیں۔

صوبہ سیستان بلوچستان میں تعلیم کی کمزور حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ہمارا صوبہ تعلیم کے لحاظ سے پورے ملک میں آخری نمبر پر ہے۔ ناخواندگی کے مقابلے کے لیے پرزور عزم کی ضرورت ہے اور حکومتی عہدیدار، علمائے کرام، دانشور حضرات اور عمائدین سمیت سب کی ذمہ داری بنتی ہے اس سلسلے میں کوشش کریں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago