عراقی وزیراعظم نے ہفتے کے روز اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ”میں نے عراقی فضائیہ کو شہری علاقوں پر بمباری روکنے کا حکم دیا ہے خواہ ان علاقوں پر داعش نے قبضہ کر رکھا ہو”۔
سنی قبائل نے داعش کے خلاف حکومت سے تعاون کے لیے شہری علاقوں پر بمباری نہ کرنے کی شرط عاید کی تھی۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق عراقی فضائیہ نے داعش کے خلاف کارروائیوں کے دوران شہری علاقوں پر بمباری کی ہے۔
عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے نیکولے ملادینوف نے وزیراعظم حیدرالعبادی کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز بغداد میں مہاجرین کے بارے میں ایک نیوز کانفرنس میں اپنے اس بیان کو دُہرایا ہے۔ ملادینوف نے کہا کہ ”شہریوں کا تحفظ اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کی ترجیح ہے”۔
عراق کے سنی مسلم قبائلی شخصیات نے وزیراعظم حیدر العبادی کی حکومت کی دولت اسلامی کے خلاف حمایت کے لیے شہری علاقوں میں کوئی فوجی کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔عراقی فضائیہ نے شہری علاقوں میں چھپنے والے داعش کے جنگجوؤں پر بیرل بموں سے بمباری کی تھی۔
حیدرالعبادی کا کہنا تھا کہ انھوں نے جمعرات کو فضائیہ کو شہری علاقوں پر بمباری نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔اسی روز فضائیہ نے مغربی شہر فلوجہ پر چودہ بیرل بم گرائے تھے جن کے نتیجے میں بائیس شہری مارے گئے تھے۔مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی سے تعلق رکھنے والے ایک مکین کا کہنا ہے کہ فوج نے جمعہ کو شہر کے نواحی دیہات میں متعدد حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں تین شہری مارے گئے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار